- کتاب فہرست 182592
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ926 تعلیم343 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3287طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط744
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4315 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6620افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4877
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
امام محمد غزالی کا تعارف
شناخت: عظیم اسلامی مفکر، فقیہ، متکلم، مجدد، صوفی، فلسفی اور حجۃ الاسلام
امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی المعروف امام غزالیؒ اسلامی تاریخ کی عظیم ترین علمی و فکری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا اصل نام محمد، کنیت ابو حامد اور لقب زین الدین تھا۔ آپ کو عالمِ اسلام میں حجۃ الاسلام کے معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت 450ھ میں طوس (صوبۂ خراسان، موجودہ ایران) میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم طوس میں حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشاپور تشریف لے گئے جہاں اس عہد کے نامور عالم امام الحرمین عبدالملک بن عبداللہ جوینیؒ سے فقہ، اصولِ فقہ اور علمِ کلام کی تحصیل کی۔ قلیل مدت میں آپ نے غیر معمولی علمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور مناظروں و فکری مباحث میں ممتاز مقام حاصل کر لیا۔
نیشاپور سے آپ وزیرِ سلاجقہ نظام الملک طوسی کے دربار تک پہنچے اور 484ھ میں مدرسۂ نظامیہ بغداد میں مدرس مقرر ہوئے۔ یہاں آپ نے باطنیہ، اسماعیلیہ اور دیگر فرقوں کے رد میں متعدد علمی تصانیف لکھیں۔ اسی دور میں فلسفے کے گہرے مطالعے نے آپ کو ایک شدید فکری بحران سے دوچار کیا اور کچھ عرصہ عقلی علوم غالب رہے۔
جب محض ظاہری علوم سے قلبی اطمینان حاصل نہ ہوا تو آپ تصوف کی طرف مائل ہوئے۔ 488ھ میں بغداد ترک کر کے حق کی تلاش میں نکلے، مختلف ممالک کا سفر کیا، کچھ عرصہ شام میں گوشہ نشینی اختیار کی، پھر حج ادا کیا۔ ان فکری و روحانی تجربات کی عکاسی آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف المنقذ من الضلال میں ملتی ہے۔ اسی مرحلے پر آپ نے اشعری فکر کو فکری تکمیل تک پہنچایا اور عقل و نقل کے امتزاج کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
زندگی کے آخری ایام میں آپ طوس واپس آ گئے اور بقیہ عمر عبادت، تصنیف اور اصلاحِ امت میں بسر کی۔ امام غزالیؒ کی تصانیف کی تعداد کے بارے میں مختلف آرا ہیں؛ بعض کے نزدیک یہ تقریباً دو سو اور بعض کے نزدیک چار سو سے زائد ہیں۔ ایک مصری محقق کی فہرست کے مطابق 457 تصانیف منسوب کی گئی ہیں، جن میں ابتدائی 72 کو مستند مانا گیا ہے۔ آپ کی مشہور کتابوں میں احیاء علوم الدین، تہافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت، مکاشفۃ القلوب اور المنقذ من الضلال شامل ہیں۔
امام ذہبیؒ کے مطابق امام غزالیؒ اپنے زمانے کے یگانۂ روزگار امام، نہایت زیرک فہم اور کثیر التصانیف عالم تھے جنھوں نے فقہ، علمِ کلام اور جدل میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔
وفات: امام غزالیؒ کا انتقال 14 جمادی الثانی 505ھ / 19 دسمبر 1111ء کو طوس میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Ghazali
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
