- کتاب فہرست 180318
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1678 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4761 تحقیق و تنقید6488افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4196خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
امام محمد غزالی کا تعارف
شناخت: عظیم اسلامی مفکر، فقیہ، متکلم، مجدد، صوفی، فلسفی اور حجۃ الاسلام
امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی المعروف امام غزالیؒ اسلامی تاریخ کی عظیم ترین علمی و فکری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا اصل نام محمد، کنیت ابو حامد اور لقب زین الدین تھا۔ آپ کو عالمِ اسلام میں حجۃ الاسلام کے معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت 450ھ میں طوس (صوبۂ خراسان، موجودہ ایران) میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم طوس میں حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشاپور تشریف لے گئے جہاں اس عہد کے نامور عالم امام الحرمین عبدالملک بن عبداللہ جوینیؒ سے فقہ، اصولِ فقہ اور علمِ کلام کی تحصیل کی۔ قلیل مدت میں آپ نے غیر معمولی علمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور مناظروں و فکری مباحث میں ممتاز مقام حاصل کر لیا۔
نیشاپور سے آپ وزیرِ سلاجقہ نظام الملک طوسی کے دربار تک پہنچے اور 484ھ میں مدرسۂ نظامیہ بغداد میں مدرس مقرر ہوئے۔ یہاں آپ نے باطنیہ، اسماعیلیہ اور دیگر فرقوں کے رد میں متعدد علمی تصانیف لکھیں۔ اسی دور میں فلسفے کے گہرے مطالعے نے آپ کو ایک شدید فکری بحران سے دوچار کیا اور کچھ عرصہ عقلی علوم غالب رہے۔
جب محض ظاہری علوم سے قلبی اطمینان حاصل نہ ہوا تو آپ تصوف کی طرف مائل ہوئے۔ 488ھ میں بغداد ترک کر کے حق کی تلاش میں نکلے، مختلف ممالک کا سفر کیا، کچھ عرصہ شام میں گوشہ نشینی اختیار کی، پھر حج ادا کیا۔ ان فکری و روحانی تجربات کی عکاسی آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف المنقذ من الضلال میں ملتی ہے۔ اسی مرحلے پر آپ نے اشعری فکر کو فکری تکمیل تک پہنچایا اور عقل و نقل کے امتزاج کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
زندگی کے آخری ایام میں آپ طوس واپس آ گئے اور بقیہ عمر عبادت، تصنیف اور اصلاحِ امت میں بسر کی۔ امام غزالیؒ کی تصانیف کی تعداد کے بارے میں مختلف آرا ہیں؛ بعض کے نزدیک یہ تقریباً دو سو اور بعض کے نزدیک چار سو سے زائد ہیں۔ ایک مصری محقق کی فہرست کے مطابق 457 تصانیف منسوب کی گئی ہیں، جن میں ابتدائی 72 کو مستند مانا گیا ہے۔ آپ کی مشہور کتابوں میں احیاء علوم الدین، تہافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت، مکاشفۃ القلوب اور المنقذ من الضلال شامل ہیں۔
امام ذہبیؒ کے مطابق امام غزالیؒ اپنے زمانے کے یگانۂ روزگار امام، نہایت زیرک فہم اور کثیر التصانیف عالم تھے جنھوں نے فقہ، علمِ کلام اور جدل میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔
وفات: امام غزالیؒ کا انتقال 14 جمادی الثانی 505ھ / 19 دسمبر 1111ء کو طوس میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Ghazali
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
