- کتاب فہرست 179836
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح614 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4863
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
امام محمد غزالی کا تعارف
شناخت: عظیم اسلامی مفکر، فقیہ، متکلم، مجدد، صوفی، فلسفی اور حجۃ الاسلام
امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی المعروف امام غزالیؒ اسلامی تاریخ کی عظیم ترین علمی و فکری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا اصل نام محمد، کنیت ابو حامد اور لقب زین الدین تھا۔ آپ کو عالمِ اسلام میں حجۃ الاسلام کے معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت 450ھ میں طوس (صوبۂ خراسان، موجودہ ایران) میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم طوس میں حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے نیشاپور تشریف لے گئے جہاں اس عہد کے نامور عالم امام الحرمین عبدالملک بن عبداللہ جوینیؒ سے فقہ، اصولِ فقہ اور علمِ کلام کی تحصیل کی۔ قلیل مدت میں آپ نے غیر معمولی علمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور مناظروں و فکری مباحث میں ممتاز مقام حاصل کر لیا۔
نیشاپور سے آپ وزیرِ سلاجقہ نظام الملک طوسی کے دربار تک پہنچے اور 484ھ میں مدرسۂ نظامیہ بغداد میں مدرس مقرر ہوئے۔ یہاں آپ نے باطنیہ، اسماعیلیہ اور دیگر فرقوں کے رد میں متعدد علمی تصانیف لکھیں۔ اسی دور میں فلسفے کے گہرے مطالعے نے آپ کو ایک شدید فکری بحران سے دوچار کیا اور کچھ عرصہ عقلی علوم غالب رہے۔
جب محض ظاہری علوم سے قلبی اطمینان حاصل نہ ہوا تو آپ تصوف کی طرف مائل ہوئے۔ 488ھ میں بغداد ترک کر کے حق کی تلاش میں نکلے، مختلف ممالک کا سفر کیا، کچھ عرصہ شام میں گوشہ نشینی اختیار کی، پھر حج ادا کیا۔ ان فکری و روحانی تجربات کی عکاسی آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف المنقذ من الضلال میں ملتی ہے۔ اسی مرحلے پر آپ نے اشعری فکر کو فکری تکمیل تک پہنچایا اور عقل و نقل کے امتزاج کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
زندگی کے آخری ایام میں آپ طوس واپس آ گئے اور بقیہ عمر عبادت، تصنیف اور اصلاحِ امت میں بسر کی۔ امام غزالیؒ کی تصانیف کی تعداد کے بارے میں مختلف آرا ہیں؛ بعض کے نزدیک یہ تقریباً دو سو اور بعض کے نزدیک چار سو سے زائد ہیں۔ ایک مصری محقق کی فہرست کے مطابق 457 تصانیف منسوب کی گئی ہیں، جن میں ابتدائی 72 کو مستند مانا گیا ہے۔ آپ کی مشہور کتابوں میں احیاء علوم الدین، تہافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت، مکاشفۃ القلوب اور المنقذ من الضلال شامل ہیں۔
امام ذہبیؒ کے مطابق امام غزالیؒ اپنے زمانے کے یگانۂ روزگار امام، نہایت زیرک فہم اور کثیر التصانیف عالم تھے جنھوں نے فقہ، علمِ کلام اور جدل میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔
وفات: امام غزالیؒ کا انتقال 14 جمادی الثانی 505ھ / 19 دسمبر 1111ء کو طوس میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Ghazali
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
