- کتاب فہرست 179873
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6671افسانہ2702 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2057نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4860
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
امداد صابری کا تعارف
شناخت: مجاہدِ آزادی، صحافی، ادیب اور عوامی رہنما
مولانا امداد صابری برصغیر کے ان باہمت صحافیوں اور سیاسی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آزادی کی تحریک، صحافت، سماجی اصلاح اور عوامی حقوق کے لیے پوری زندگی سرگرم جدوجہد کی۔ وہ ایک سچے مجاہدِ آزادی، بے باک صحافی اور کہنہ مشق ادیب تھے۔
امداد صابری کی پیدائش 16 اکتوبر سنہ 1914ء کو دہلی کے معروف علاقہ چوڑی والان میں ہوئی۔ جس خاندان میں ان کی ولادت ہوئی وہ اپنے علم و فضل میں مشہور تھا۔ ان کے والد اشرف الحق صابری اپنے عہد کے مشہور عالم دین تھے، انھیں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی سے خاص تعلق تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے فرزند کے نام "امداد الرشید صابری" میں دونوں شخصیتوں کے نام یکجا کر دیے۔
ابتدائی تعلیم کم عمری میں انگریزی میں دلائی گئی۔ سہارنپور میں فارسی اور عربی پڑھی، 1930ء میں پنجاب یونیورسٹی سے کالج کی تعلیم مکمل کی۔ ادیب و فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ 1937ء میں قید کے دوران ہندی سیکھی اور ادب سے گہری دلچسپی پیدا ہوئی۔
نوجوانی ہی سے انقلابی مزاج رکھتے تھے۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ سترہ برس کی عمر میں ایک انگریز پولیس افسر کو ایک خاتون پر لاٹھی اٹھاتے دیکھ کر مزاحمت کی جس پر سخت تشدد کا نشانہ بنے۔
قوم کی زبوں حالی دیکھ کر اوقاف کے تحفظ کی تحریک شروع کی اور 1936ء سے جامع مسجد دہلی کے مکبر پر اصلاحی تقریریں کرنے لگے۔ اسی پاداش میں 1937ء میں دفعہ 107 کے تحت گرفتار ہوئے۔ بعد میں ایک ہزار روپے کی ضمانت پر رہائی ملی۔
انہوں نے متعدد انتخابات میں حصہ لیا اور کئی بار کامیاب ہوئے۔ دہلی کارپوریشن کے ڈپٹی میئر بھی رہے۔ شہری مسائل، بجلی کی فراہمی، ٹیکسوں میں کمی، اناج کی دکانوں کے قیام اور عوامی سہولتوں کے لیے آواز اٹھائی۔ 1942ء کی تحریکِ آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور نظر بند بھی رہے۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ساتھیوں کی مدد کے الزام میں شاہی قیدی بھی بنائے گئے، جیلیں کاٹیں مگر حوصلہ نہ ہارا۔
صحافت ان کی زندگی کا اہم میدان تھا۔ حکومت کی بے ضابطگیوں، محکمہ جاتی بدعنوانیوں اور سماجی مسائل پر بے لاگ لکھا۔ تقریباً آٹھ اخبارات سے وابستہ رہے یا ان کی ادارت کی، جن میں اتحاد، تیغ، چنگاری، قومی حکومت، آزاد ہندوستان، انگارہ، جماعت، عوامی رائے شامل ہیں۔ ان کے اداریوں سے سرکاری محکمے حرکت میں آ جاتے تھے۔
انہوں نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں، جن میں نمایاں ہیں: تاریخِ صحافتِ اردو (3 جلدیں)، تاریخِ جرم و سزا، تاریخ آزاد ہند فوج، نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ساتھ، 1857 کے مجاہد شعرا، دہلی کی یادگار شخصیتیں، دہلی کے قدیم مدارس، سیاسی رہنماؤں کی مائیں اور بیویاں، جنوبی افریقہ کے اردو شاعر، روحِ صحافت وغیرہ۔
انہیں دیواری صحافت (پوسٹر صحافت) سے بھی خاص شغف تھا۔ خوبصورت اور اثر انگیز پوسٹر رات بھر جاگ کر لکھتے اور فجر سے پہلے چسپاں کروا دیتے۔ ان کے پوسٹر عوام کے لیے “نوشتۂ دیوار” ثابت ہوتے تھے۔
ذاتی زندگی نہایت سادہ تھی۔ منکسر المزاج، ہمہ وقت دوسروں کے کام آنے والے، ہر وقت مہر اور پیڈ ساتھ رکھتے تاکہ ضرورت مندوں کے کاغذات فوراً دستخط کر سکیں۔
وہ سبھاش چندر بوس سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور آخری دم تک قومی خدمت میں مصروف رہے۔
وفات: 13 اکتوبر 1988ء کو 74 برس کی عمر میں انتقال کیا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Imdad_Sabri
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
