- کتاب فہرست 180518
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1584 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب970 تحریکات267 ناول4270 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4872
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
امداد صابری کا تعارف
شناخت: مجاہدِ آزادی، صحافی، ادیب اور عوامی رہنما
مولانا امداد صابری برصغیر کے ان باہمت صحافیوں اور سیاسی کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آزادی کی تحریک، صحافت، سماجی اصلاح اور عوامی حقوق کے لیے پوری زندگی سرگرم جدوجہد کی۔ وہ ایک سچے مجاہدِ آزادی، بے باک صحافی اور کہنہ مشق ادیب تھے۔
امداد صابری کی پیدائش 16 اکتوبر سنہ 1914ء کو دہلی کے معروف علاقہ چوڑی والان میں ہوئی۔ جس خاندان میں ان کی ولادت ہوئی وہ اپنے علم و فضل میں مشہور تھا۔ ان کے والد اشرف الحق صابری اپنے عہد کے مشہور عالم دین تھے، انھیں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی سے خاص تعلق تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے فرزند کے نام "امداد الرشید صابری" میں دونوں شخصیتوں کے نام یکجا کر دیے۔
ابتدائی تعلیم کم عمری میں انگریزی میں دلائی گئی۔ سہارنپور میں فارسی اور عربی پڑھی، 1930ء میں پنجاب یونیورسٹی سے کالج کی تعلیم مکمل کی۔ ادیب و فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ 1937ء میں قید کے دوران ہندی سیکھی اور ادب سے گہری دلچسپی پیدا ہوئی۔
نوجوانی ہی سے انقلابی مزاج رکھتے تھے۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ سترہ برس کی عمر میں ایک انگریز پولیس افسر کو ایک خاتون پر لاٹھی اٹھاتے دیکھ کر مزاحمت کی جس پر سخت تشدد کا نشانہ بنے۔
قوم کی زبوں حالی دیکھ کر اوقاف کے تحفظ کی تحریک شروع کی اور 1936ء سے جامع مسجد دہلی کے مکبر پر اصلاحی تقریریں کرنے لگے۔ اسی پاداش میں 1937ء میں دفعہ 107 کے تحت گرفتار ہوئے۔ بعد میں ایک ہزار روپے کی ضمانت پر رہائی ملی۔
انہوں نے متعدد انتخابات میں حصہ لیا اور کئی بار کامیاب ہوئے۔ دہلی کارپوریشن کے ڈپٹی میئر بھی رہے۔ شہری مسائل، بجلی کی فراہمی، ٹیکسوں میں کمی، اناج کی دکانوں کے قیام اور عوامی سہولتوں کے لیے آواز اٹھائی۔ 1942ء کی تحریکِ آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور نظر بند بھی رہے۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ساتھیوں کی مدد کے الزام میں شاہی قیدی بھی بنائے گئے، جیلیں کاٹیں مگر حوصلہ نہ ہارا۔
صحافت ان کی زندگی کا اہم میدان تھا۔ حکومت کی بے ضابطگیوں، محکمہ جاتی بدعنوانیوں اور سماجی مسائل پر بے لاگ لکھا۔ تقریباً آٹھ اخبارات سے وابستہ رہے یا ان کی ادارت کی، جن میں اتحاد، تیغ، چنگاری، قومی حکومت، آزاد ہندوستان، انگارہ، جماعت، عوامی رائے شامل ہیں۔ ان کے اداریوں سے سرکاری محکمے حرکت میں آ جاتے تھے۔
انہوں نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں، جن میں نمایاں ہیں: تاریخِ صحافتِ اردو (3 جلدیں)، تاریخِ جرم و سزا، تاریخ آزاد ہند فوج، نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ساتھ، 1857 کے مجاہد شعرا، دہلی کی یادگار شخصیتیں، دہلی کے قدیم مدارس، سیاسی رہنماؤں کی مائیں اور بیویاں، جنوبی افریقہ کے اردو شاعر، روحِ صحافت وغیرہ۔
انہیں دیواری صحافت (پوسٹر صحافت) سے بھی خاص شغف تھا۔ خوبصورت اور اثر انگیز پوسٹر رات بھر جاگ کر لکھتے اور فجر سے پہلے چسپاں کروا دیتے۔ ان کے پوسٹر عوام کے لیے “نوشتۂ دیوار” ثابت ہوتے تھے۔
ذاتی زندگی نہایت سادہ تھی۔ منکسر المزاج، ہمہ وقت دوسروں کے کام آنے والے، ہر وقت مہر اور پیڈ ساتھ رکھتے تاکہ ضرورت مندوں کے کاغذات فوراً دستخط کر سکیں۔
وہ سبھاش چندر بوس سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور آخری دم تک قومی خدمت میں مصروف رہے۔
وفات: 13 اکتوبر 1988ء کو 74 برس کی عمر میں انتقال کیا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Imdad_Sabri
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
