Jagat Mohan Lal Ravan's Photo'

جگت موہن لال رواں

1889 - 1934 | لکھنؤ, ہندوستان

اپنی رباعیات اور گوتم بدھ پر طویل نظم کے لیے مشہور

اپنی رباعیات اور گوتم بدھ پر طویل نظم کے لیے مشہور

وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا

مجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیا

اس کو خزاں کے آنے کا کیا رنج کیا قلق

روتے کٹا ہو جس کو زمانہ بہار کا

پیش تو ہوگا عدالت میں مقدمہ بیشک

جرم قاتل ہی کے سر ہو یہ ضروری تو نہیں

توڑا ہے دم ابھی ابھی بیمار ہجر نے

آئے مگر حضور کو تاخیر ہو گئی

وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواںؔ

کہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئے

اگر کچھ روز زندہ رہ کے مر جانا مقدر ہے

تو اس دنیا میں آخر باعث تخلیق جاں کیا تھا

سامنے تعریف غیبت میں گلہ

آپ کے دل کی صفائی دیکھ لی

ہنسے بھی روئے بھی لیکن نہ سمجھے

خوشی کیا چیز ہے دنیا میں غم کیا

ابھی تک فصل گل میں اک صدائے درد آتی ہے

وہاں کی خاک سے پہلے جہاں تھا آشیاں میرا

یہی ہستی اسی ہستی کے کچھ ٹوٹے ہوئے رشتے

وگرنہ ایسا پردہ میرے ان کے درمیاں کیا تھا

آئیں پسند کیا اسے دنیا کی راحتیں

جو لذت آشنائے ستم ہائے ناز تھا

کچھ اضطراب عشق کا عالم نہ پوچھئے

بجلی تڑپ رہی تھی کہ جان اس بدن میں تھی