- کتاب فہرست 179888
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح614 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
جوگندر پال کے افسانچے
درختوں میں بھی جان ہوتی ہے
درخت کاٹنے والے نے کلہاڑے کو دونوں ہاتھوں سے سر سے اوپرلے جا کر پورے زور سے درخت کے تنے پر چوٹ کرنا چاہی مگر درخت کی شاخیں کلہاڑے سے وہیں الجھ گئیں اور درخت کاٹنے والے نے کلہاڑے کو وہاں سے نکالنا چاہا تو وہ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر اس کے پیروں پر آ گرا
پہچان
’’انسان کے علاوہ دوسرے جانداروں میں بھی نام رکھنے کا رواج کیوں نہیں؟‘‘ ’’دوسرے جانداروں کو ڈر ہے کہ ناموں سے پہچان میں دھوکا ہو جاتا ہے۔‘‘ ’’دھوکا ہو جاتا ہے؟‘‘ ’’ہاں، ہماری پہچان نام کی محتاج ہے اور ان کی پہچان، کردار کی۔‘‘
شکلیں
’’کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ سبھی بچے ایک جیسے نظر آتے ہیں؟‘‘ ’’ہاں اور بوڑھے بھی۔‘‘ ’’ہاں بوڑھے بھی واقعی ہم شکل معلوم ہوتے ہیں کتنے تعجب کی بات ہے !‘‘ ’’نہیں، اس میں تعجب کیسا؟ بچوں کی میں ابھی آئی نہیں ہوتی اور بوڑھوں کی میں آ کے جا چکی ہوتی
ویشیائیں
میں نے رخسانہ کے ساتھ رات گزارنے کے بعد اسے دام ادا کئے بغیر کھسک جانا چاہا ۔ وہ بولی، ’’میرے پیسے مار کے جارہے ہو تو جاؤ لیکن یاد رکھو، اگلے جنم میں اوپر والا تمہیں میری بیوی بنائے گا اور تمہیں ساری عمر میرے ساتھ مفت سونا پڑے گا۔‘‘
کچا پن
’’بابا، تم بڑے میٹھے ہو۔‘‘ ’’یہی تو میری مشکل ہے بیٹا۔ ابھی ذرا کچا اور کھٹا ہوتا تو جھاڑ سے جڑا رہتا۔‘‘
بھوت پریت
چند بھوت حسب معمول اپنی اپنی قبر سے نکل کر چاندنی رات میں گپیں ہانکنے کے لئے کھلے میدان میں اکٹھا ہو کر بیٹھ گئے اور بحث کرنے لگے کہ کیا واقعی بھوت ہوتے ہیں۔ ’’نہیں،‘‘ ایک نے ہنس کر کہا ،’’سب من گھڑت باتیں ہیں۔‘‘ ایک اور بولا، ’’کسی بھی بھوت کو علم
اجنبی
پہلی ملاقات میں ہی مجھےاور اسے بھی پتا چل گیا کہ وہ اور میں جنم جنم کے شناسا ہیں اور ہم نے اکٹھا رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ اوربرس ہا برس اکٹھا رہ رہ کر ہم ایک دوسرے سے اتنے ناواقف ہو گئے کہ مجھے اور اسے بھی معلوم ہوا، ہم ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملے۔
ماضی
پورے تیس برس بعد میں اپنے گاؤں جا رہا ہوں اور ریل گاڑی کی رفتار کے صوتی آہنگ پر کان دھرے ان دنوں کا خواب دیکھ رہا ہوں جو میں نے بچپن میں اپنے گاؤں میں بتائے تھے۔رات گہری ہو رہی ہے اور خواب گھنا۔ میں گھنٹوں کی نیند کے بعد ہڑبڑا کر جاگ پڑا ہوں اور دیکھتا
ہیڈ لائٹس
اندھیری رات تھی اور میں اپنی موٹر گاڑی کو ایک بل کھاتی ہوئی انجانی سڑک پر لئے جا رہا تھا اور مجھے ایک وقت پر صرف وہیں تک نظر آ رہا تھا جہاں تک ہیڈ لائٹس کی روشنی پڑ رہی تھی۔ میرے آگے آگے دوڑتی ہوئی کوئی تین ساڑے تین سو گز کی روشنی اور یوں میں اندھیرے
نقطۂ نظر
میں اندھا تھا۔ لیکن جب ایک برٹش آئی بنک سے حاصل کی ہوئی آنکھیں میرے راکٹس میں فٹ کر دی گئیں تو مجھے دکھائی دینے لگا اور میں سوچنے لگا کہ غیروں کا نقطۂ نظر اپنا لینے سے بھی اندھا پن دور ہو جاتا ہے۔
نئے رہنما
نہیں، ہم قحط یا وبا سے بھی اتنا خوف محسوس نہیں کرتے۔ ہاں، سیلاب سے بھی ہزاروں ناحق لقمۂ اجل بن جاتے ہیں مگر ہم سیلاب سے بھی اس قدر نہیں لرزتے جس قدر اس بات سے کہ ہمارے سیاستداں اچانک کسی وقت کیا مصیبت کھڑی کر دیں گے۔
تعاقب
میں ایک خوبصورت عورت کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ تھوڑے فاصلے پر وہ ایک تنہا مقام پر رک گئی اور میری طرف مڑ کر گویا ہوئی، آؤ اب میرے ساتھ ساتھ چلو۔ میں بھی تمہارے آگے اسی لئے چل رہی تھی کہ تمہارا پیچھا کر سکوں۔
ظروف
’’تعجب ہے! صندوق کے باہر جوں کا توں قفل لگا رہا اور اس کے اندر ہی اندر سارے بیش بہا ہیرے جواہرات غائب ہو گئے؟‘‘ ’’یہی تو ہوتا ہے۔ ہاں !یقین نہ ہو تو مر کر دیکھ لو۔‘‘
سننے کی بات
اس نے ساری عمر کسی کی نہ سنی، صرف اپنی کہی اور اس طرح وہ بوڑھا اور ناکارہ ہو گیا۔ اور اب اس کے کان سننے سے معذور ہو گئے ہیں۔ مگر وہ انہیں ہر دم بے سود کھڑا کئے رکھتا ہے کہ کچھ تو سنائی دے۔
پروڈکشن
مجھے ہر انسان مصنوعی کیوں معلوم ہوتا ہے؟ کیوں کہ وہ ہے ہی مصنوعی۔ ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ بچہ آج اپنے ماں باپ کی محبت کے باعث پیدا نہیں ہوتا، بس ان کے جسموں کی خود کار حرکت سے وجود میں آجاتا ہے۔
پس ماندگی
ڈاکٹر اپنے مریض کو ڈانٹ رہا تھا۔ ’’تم ابھی تک بیسویں صدی میں رہ رہے ہو۔ تمہارا علاج کیوں کر کروں؟ کئی بار سمجھا چکا ہوں کہ کھلی ہوا میں سانس مت لیا کرو۔ بیماریوں سے بچے رہنا ہے تو مصنوعی آکسیجن کو ایک منٹ کے لئے بھی اپنی ناک سے الگ مت کرو۔‘‘
کنواریاں
ساگر کی بے چین لہریں ساحل کی طرف اچھل آئی تھیں اور مسرت سے جھاگ ہو ہو کر بے تحاشہ دوڑنے لگی تھیں اور خشکی نے نظر بچا کے اپنے انگنت بازو ان کی طرف بڑھا دیئے تھے اور انہیں ایک دم اپنے اندر اتار لیا تھا اور بوڑھا ساگر بے چارہ اپنی کنواری بیٹیوں کو اپنی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
