- کتاب فہرست 179667
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
جوگندر پال کے افسانے
ایک جاسوسی کہانی
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو ریٹائرمینٹ کے بعد اسٹیشن سے پیدل ہی گھر کی طرف چل دیتا ہے۔ چاندنی میں سنسان سڑک پر خاموش چلتا ہوا وہ اپنی بیتی ہوئی زندگی، دفتر میں اپنی کارکردگی اور بیوی کے ساتھ خود کے رشتوں پر غور کرتا جاتا ہے۔ مگر تبھی اسے احساس ہوتا ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اور جب تک اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے تب تک اسے اپنے خسر کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہوتا ہے۔
کھودو بابا کا مقبرہ
’’یہ کہانی بڑے شہروں میں عام آدمی کی بے قدری اور مشکل بھری داستان کو بیان کرتی ہے۔ اس جھگی بستی میں کھودو بابا پتہ نہیں کہاں سے چلے آئے تھے۔ ٹھیکیدار نے انہیں قبرستان کی زمین ہتھیانے کی نیت سے ایک پکا چبوترہ دے دیا تھا۔ اس چبوترے پر بیٹھ کر کھودو بابا ایک کتے کے معرفت اپنی بیتی زندگی کی کہانی سناتے ہیں اور لوگوں کے دکھ درد کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘
بیک لین
’’کہانی پسماندہ طبقے کے ایک کردار کے ذریعے ملک میں تیزی سے ابھر رہے متوسط طبقے کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک کباڑی کوٹھیوں سے بنی ایک کالونی میں روز کوڑا لینے آتا ہے۔ وہ کوٹھیوں کی ان پچھلی گلیوں میں جاتا ہے جہاں پر کوڑے کے ٹرم رکھے ہوتے ہیں۔ وہ ٹرم کو الٹتا ہے اور کوڑے میں سے اپنے کام کی چیزیں لے کر باقی کو واپس اسے ٹرم میں بھر دیتا ہے۔ ٹرم سے نکلنے والی طرح طرح کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے وہ ان گھروں کے خاندانی، جسمانی رشتوں، کاروبار اور سماجی اخلاقیات کی پرتیں اگھاڑتا جاتا ہے۔‘‘
مردہ خانہ
’’کہانی ایک مردہ گھر میں کا م کرنےوالے ڈاکٹروں، چپراسی اور دیگر ملازمین کی داستان بیان کرتی ہے، جنہوں نے مردہ گھر میں برف سپلائی کرنے والے لوگوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کی ہوئی ہوتی ہے۔ مردہ گھر میں طے شدہ مقدار میں سے صرف ایک تہائی ہی برف آتی ہے، جس کی وجہ سے لاشیں سڑنے لگتی ہیں اور ان سے بدبو آنے لگتی ہے۔‘‘
تیسری دنیا
یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے، جو ایک مجمع میں بیٹھا ہوا اپنی بیتی زندگی کی داستان سنا رہا ہے۔ لیکن مجمع میں جب بھی کوئی نیا شخص آتا ہے وہ اس سے کہتا ہے کہ اس نے ابھی تک اپنی داستان شروع نہیں کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ مجمع میں بیٹھے لوگوں سے شہادت بھی لینا چاہتا ہے۔ وہ اپنی داستان شروع کرتا ہے اور تبھی کوئی نیا شخص مجمع میں آ جڑتا ہے اور وہ پھر سے اپنی بات کو نئے سرے سے شروع کرتا ہے۔
کتھا ایک پیپل کی
کہانی ایک پیپل اور اس پر بسے کئی طرح کے پرندوں کے کنبے کی کتھا کہتی ہے۔ پیپل کے پیڑ پر کبوتر کبوتری، کواکوی اور بھی کئی طرح کے پرندے رہتے ہیں۔ سبھی اپنی اپنی بات کہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی پیپل بھی اپنے پچھلے جنم اور پھر پنرجنم کی کہانی سناتا جاتا ہے۔
فاختائیں
یہاں خریت ہے۔ آپ کی خیریت نیک مطلوب۔ اپنے پرانےدوست فضل دین کو چٹھی لکھتے ہوئے لوبھ سنگھ کو یاد آیا ہے کہ وہ ان دنوں بھی اسے خریت لکھنے پر ٹوکا کرتا تھا۔ اردو کے ماسٹر ہولو بھے، یہ بھی نہیں جانتے خریت خر سے ہوتا ہے۔ ’’بڑے علم دین مت بنو، فضل دینے۔
ٹیلی گرام
شہر میں تنہا زندگی گزارتے ایک ایسے کلرک کی کہانی ہے، جو کم تنخواہ میں گزارا کرتے ہوئے سال میں ایک بار ہی اپنی بیوی سے ملنےگاؤں جاتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ ایک اچھا سا کمرا کرایے پر لے اور بیوی کو بھی شہر میں لے آئے۔ اچانک اسے ایک ٹیلیگرام ملتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ اس کے نام دو کمروں کا سرکاری کوارٹر منظور ہو گیا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد اسے دوسرا ٹیلیگرام ملتا ہے، جس میں اس کی بیوی کی خودکشی کی اطلاع ہوتی ہے۔
جاگیردار
’’یہ افسانہ ایک ایسے خود غرض باپ کی کہانی بیان کرتی ہے، جو روپیوں کی خاطر اپنی ہی بیٹی سے دھندا کرانے لگتا ہے۔ اس مکان میں وہ نیا نیا کرایہ دار تھا۔ ایک دن ایک بچی ایک چٹھی لے کر اس کے پاس آئی۔ اس میں کچھ روپیوں کی درخواست کی گئی تھی۔ چٹھی بھیجنے والے نے خود کو جاگیر دار بتایا تھا۔ چٹھی میں جتنے روپیے مانگے گئے تھے اس کے آدھے دیکر اس کرایہ دار نے بچی کو روانہ کر دیا۔ اس کے بعد بھی بچی کئی بار اس کے پاس چٹھی لے کر آئی اور اس نے ہر بار اسے کم روپیے دیئے۔ ایک دن چٹھی بھیجنے والا خود اس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ وہ جتنے روپیے چٹھی میں لکھے اتنے ہی دیا کرے، کیونکہ اب اس کی بیٹی بھی تو بڑی ہو گئی ہے۔‘‘
پتا جی
یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو اپنے والد کی موت کے بعد اپنی بیوی کو بڑی بہو کہنے لگتا ہے۔ وہ اپنے والد کے کپڑے پہننے لگتا ہے اور کبھی کبھی بڑی بہو کو والد جیسا ہی لگنے لگتا ہے۔ ایک دن وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے بڑی بہو کو بیتی زندگی کے کئی واقعات سناتا ہے اور ساتھ ہی بتاتا جاتا ہے کہ اس نے ہی والد کا قتل کیا ہے، کیونکہ اسے بڑی بہو اور اس کے والد کے درمیان رشتہ کو لے کر شک تھا۔
گرین ہاؤس
یو۔ این۔ او کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے اس نجی سن ڈاؤنر سے مولو اب گھر لوٹنا چاہ رہا تھا۔ مگر اس نے اتنی پی لی تھی کہ اسے ڈر تھا، اٹھا تو لڑکھڑانے لگوں گا۔ آسٹریلین لاکر اس کی خواہش اور خوف بھانپ کر ہنسنے لگا، ’’پر جب نشے کا یہ عالم ہو تو گھٹنوں کو
مہاجر
’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو جوانی میں اپنے خمار میں رہتا ہے۔ پھر ایک دن اس کے لیے ایک بہت خوبصورت لڑکی مہر النساء کا رشتہ آتا ہے۔ مگر مہر النساء اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ وہ اپنے پڑوسی کے ایک لڑکے سے خاموشی سے نکاح کرکے اس کے ساتھ بھاگ جاتی ہے اور وہ شخص تنہا مہرالنساء کی آس میں دنیا کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔‘‘
بے گور
یہ کہانی ہندوستان میں غریبی اور فاقہ کشی کے شکار لوگوں کے خوفناک حالت کی عکاسی کرتی ہے۔ کلکتہ آئے ایک امریکی ڈاکٹر کو اپنے ریسرچ کے لیے پانچ مردوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ ایک ایجینٹ سے بات کرتا ہے۔ ایجینٹ اسے شہر کی سڑکوں سے ہوتا ہوا ایک ایسی گلی میں لے جاتا ہے، جہاں غریبی اور بھوک سے موت کے قریب پہنچے لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
