Kaleem Aajiz's Photo'

کلیم عاجز

1924 - 2015 | پٹنہ, ہندوستان

کلاسیکی لہجے کےلئے ممتاز اور مقبول شاعر

کلاسیکی لہجے کےلئے ممتاز اور مقبول شاعر

غزل 51

اشعار 65

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں

ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ای- کتاب 10

ابھی سن لو مجھ سے

 

1992

اک دیس اک بدیسی

سفرنامہ امریکہ

1981

جب فصل بہاراں آئی تھی

 

1990

کوچۂ جاناں جاناں

 

2002

مجلس ادب

 

2003

پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا

 

2008

وہ جو شاعری کا سبب ہوا

 

1976

وہ جو شاعری کا سبب ہوا

 

1976

وہ جو شاعری کا سبب ہوا

 

1996

شمارہ نمبر-004

2015

 

ویڈیو 10

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

کلیم عاجز

Mushaira ba-aizaaz kaleem ajiz

کلیم عاجز

شانے کا بہت خون_جگر جائے ہے پیارے

کلیم عاجز

کس ناز کس انداز سے تم ہائے چلو ہو

کلیم عاجز

کیا غم ہے اگر شکوۂ_غم عام ہے پیارے

کلیم عاجز

یہ آنسو بے_سبب جاری نہیں ہے

کلیم عاجز

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں_گے

کلیم عاجز

یہی بیکسی تھی تمام شب اسی بیکسی میں سحر ہوئی

کلیم عاجز

مصنفین متعلقہ

  • مظہر امام مظہر امام ہم عصر

مصنفین کے مزید "پٹنہ"

  • نیر مسعود نیر مسعود
  • علیم صبا نویدی علیم صبا نویدی
  • وحید الدین سلیم وحید الدین سلیم
  • باقر مہدی باقر مہدی
  • راہی معصوم رضا راہی معصوم رضا
  • خورشید الاسلام خورشید الاسلام
  • جگن ناتھ آزاد جگن ناتھ آزاد
  • شکیل الرحمن شکیل الرحمن
  • اقبال مجید اقبال مجید
  • شمس الرحمن فاروقی شمس الرحمن فاروقی