Kaleem Aajiz's Photo'

کلیم عاجز

1924 - 2015 | پٹنہ, ہندوستان

کلاسیکی لہجے کےلئے ممتاز اور مقبول شاعر

کلاسیکی لہجے کےلئے ممتاز اور مقبول شاعر

9.8K
Favorite

باعتبار

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں

ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں

چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے

لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے

ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی

مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی

گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے

ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے

تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ

میں نہیں ہوں دور اتنا کہ سلام تک نہ پہنچے

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں

محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے

غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پر

جی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہے

کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہے

یاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنے

بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ

بات کہنے کا سلیقہ چاہئے

بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا

سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے

سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ

یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں

وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مسکراؤ

وفا یاد رکھو ستم بھول جاؤ

دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو

وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ

دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ

گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے

وہ بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل

سمجھانے میں اک عمر گزر جائے ہے پیارے

  • موضوعات : دل
    اور 1 مزید

عشق میں موت کا نام ہے زندگی

جس کو جینا ہو مرنا گوارا کرے

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں

زندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

انہیں کے گیت زمانے میں گائے جائیں گے

جو چوٹ کھائیں گے اور مسکرائے جائیں گے

خموشی میں ہر بات بن جائے ہے

جو بولے ہے دیوانہ کہلائے ہے

مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں

وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

دل تھام کے کروٹ پہ لئے جاؤں ہوں کروٹ

وہ آگ لگی ہے کہ بجھائے نہ بنے ہے

مرنا تو بہت سہل سی اک بات لگے ہے

جینا ہی محبت میں کرامات لگے ہے

ہمارے قتل سے قاتل کو تجربہ یہ ہوا

لہو لہو بھی ہے مہندی بھی ہے شراب بھی ہے

کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں

آ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ

آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت

تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

مے کدے کی طرف چلا زاہد

صبح کا بھولا شام گھر آیا

the priest now proceeds towards the tavern's door

to the true path returns he who strayed before

سنا ہے ہمیں بے وفا تم کہو ہو

ذرا ہم سے آنکھیں ملا لو تو جانیں

دل درد کی بھٹی میں کئی بار جلے ہے

تب ایک غزل حسن کے سانچے میں ڈھلے ہے

میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپا

نہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہے

اب انسانوں کی بستی کا یہ عالم ہے کہ مت پوچھو

لگے ہے آگ اک گھر میں تو ہمسایہ ہوا دے ہے

وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟

تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟

مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے

بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے

مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ

پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

فن میں نہ معجزہ نہ کرامات چاہئے

دل کو لگے بس ایسی کوئی بات چاہئے

کبھی ایسا بھی ہووے ہے روتے روتے

جگر تھام کر مسکرانا پڑے ہے

ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ

دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا؟

کبھی چوٹ تو نے بھی کھائی ہے کبھی تیرا دل بھی دکھا ہے کیا؟

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا

سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے

یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا

جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

کل کہتے رہے ہیں وہی کل کہتے رہیں گے

ہر دور میں ہم ان پہ غزل کہتے رہیں گے

اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا میں

تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیارے

تپش پتنگوں کو بخش دیں گے لہو چراغوں میں ڈھال دیں گے

ہم ان کی محفل میں رہ گئے ہیں تو ان کی محفل سنبھال دیں گے

موسم گل ہمیں جب یاد آیا

جتنا غم بھولے تھے سب یاد آیا

ادھر آ ہم دکھاتے ہیں غزل کا آئنہ تجھ کو

یہ کس نے کہہ دیا گیسو ترے برہم نہیں پیارے

اپنا دل سینۂ اشعار میں رکھ دیتے ہیں

کچھ حقیقت بھی ضروری ہے فسانے کے لئے