Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khaliq Anjum's Photo'

خلیق انجم

1935 - 2016 | دلی, انڈیا

ممتاز محقق، ماہرِ غالبیات، ’خطوطِ غالب‘ کے مدوّن اور اردو میں ’متنی تنقید‘ کے بنیاد گزار

ممتاز محقق، ماہرِ غالبیات، ’خطوطِ غالب‘ کے مدوّن اور اردو میں ’متنی تنقید‘ کے بنیاد گزار

خلیق انجم کا تعارف

تخلص : 'خلیق انجم'

اصلی نام : خلیق احمد

پیدائش : 22 Dec 1935 | دلی

وفات : 18 Oct 2016 | دلی, انڈیا

شناخت: ممتاز محقق، غالب شناس، متنی نقاد، دہلی کے آثار و تہذیب کے مؤرخ اور انجمن ترقیِ اردو کے سابق جنرل سکریٹری

ڈاکٹر خلیق انجم 22 دسمبر 1935ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام غلام احمد تھا، جو بعد میں خلیق احمد اور پھر ادبی دنیا میں خلیق انجم کے نام سے معروف ہوا۔ ان کے آبا و اجداد روہیلے پٹھان تھے، جبکہ ننیہالی خاندان علم و تدریس سے وابستہ تھا۔ بچپن ہی میں والد کا سایہ اٹھ گیا، چنانچہ ان کی والدہ قیصر سلطانہ نے نہایت عزم و استقلال کے ساتھ ان کی تربیت کی۔

ابتدائی تعلیم اینگلو عربک ہائر سیکنڈری اسکول دہلی میں حاصل کی، پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بعد ازاں دہلی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ دہلی یونیورسٹی سے ایم اے کے بعد پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کی نگرانی میں "مرزا مظہر جانِ جاناں" پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر خلیق انجم اردو ادب کی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ محقق، نقاد، مترجم، صحافی، خاکہ نگار اور مدوّن کی حیثیت سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے اور اردو تحقیق و تدوین کے میدان میں ان کی خدمات نہایت اہم شمار کی جاتی ہیں۔

ان کی سب سے نمایاں علمی شناخت غالب شناس کی ہے۔ غالبیات کے باب میں ان کا کام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ خصوصاً پانچ جلدوں پر مشتمل خطوطِ غالب کی تدوین نے انہیں ماہرینِ غالبیات کی صفِ اول میں جگہ دی۔ انہوں نے غالب کے خطوط کو پہلی مرتبہ مکمل، مستند اور تصحیح شدہ متن کے ساتھ پیش کیا۔

غالبیات سے متعلق ان کی دیگر اہم کتابوں میں:

غالب کی نادر تحریریں

غالب اور شاہانِ تیموریہ

غالب: کچھ مضامین

غالب کا سفرِ کلکتہ اور کلکتے کا ادبی معرکہ

انتخابِ خطوطِ غالب (اردو و ہندی)

تحقیق و تدوین کے میدان میں ان کی کتاب "متنی تنقید" سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے ذریعے انہوں نے اردو میں پہلی مرتبہ متنی تنقید کے اصول و مباحث کو منظم اور سائنٹفک انداز میں پیش کیا اور اردو تحقیق کو نئی جہت عطا کی۔

ڈاکٹر خلیق انجم کو دہلی، اس کی تہذیب، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے خصوصی شغف تھا۔ انہوں نے دہلی کی تاریخ و ثقافت پر بھی اہم علمی کام کیا۔ اس سلسلے میں ان کی معروف تصانیف ہیں:

آثارالصنادید (ترتیب و تدوین)

رسومِ دہلی

دہلی کے آثارِ قدیمہ

دہلی کی درگاہ شاہ مرداں

مرقعِ دہلی

ان کی خاکہ نگاری کی اہم کتاب "مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا" شخصی خاکوں کا ایک وقیع مجموعہ ہے، جس میں اردو کی ممتاز شخصیات کے دل چسپ اور معتبر خاکے شامل ہیں۔

ترجمہ نگاری میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے متعدد اہم فارسی و انگریزی متون کا اردو ترجمہ کیا اور "فنِ ترجمہ نگاری" کے عنوان سے ترجمے کے فن پر بھی ایک اہم کتاب مرتب کی۔

ڈاکٹر خلیق انجم تقریباً 37 برس تک انجمن ترقیِ اردو سے وابستہ رہے اور اس ادارے کے ذریعے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے انجمن کے رسائل "اردو ادب" اور "ہماری زبان" میں بھی مسلسل علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر خلیق انجم اردو تحقیق، غالبیات، متنی تنقید اور دہلی شناسی کے میدان میں ایک مستند نام ہیں۔ ان کی علمی خدمات نے اردو تحقیق کے معیار کو بلند کیا اور اردو ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔

وفات: 18 اکتوبر 2016ء کو انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے