- کتاب فہرست 179249
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح608 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6591افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مسعود مفتی کے افسانے
گورکن
قبروں کے درمیان زندگی گزارنے والے ایک گورکن کی کہانی، جو پچھلے ایک ہفتے سے خالی ہے کہ کوئی میت آئی ہی نہیں جس کی وہ قبر تیار کر سکے اور اپنی مزدوری پوری کرے۔ وہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اللہ کسی کو بے موت مار دے۔ قبرستان کے باہر بنی کوٹھری میں بیٹھا وہ اپنی گزشتہ زندگی کے بارے میں غور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ کیسے خوشگوار دن تھے۔ تبھی ایک سائیکل سوار اس کے پاس آتا ہے اور اسے ایک بچے کی قبر تیار کرنے کے لیے کہہ کر چلا جاتا ہے۔ گورکن اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے آج کی روزی کا انتظام کر دیا۔ بعد میں گورکن کو پتہ چلتا ہے کہ وہ جس بچے کی قبر تیار کر رہا ہے وہ کسی اور کی نہیں، اس کے اپنے بچے کی قبر ہے، جو پتنگ اڑاتا ہوا چھت سے گر کر مر گیا ہے۔
محدب شیشہ
یہ ایک ایسےسادہ لوح اسکول ماسٹر کی کہانی ہے، جو مسجد میں امام صاحب کی وعظ سے متاثر ہو کر ایک بیوہ عورت کی مدد کرنےلگتا ہے۔ بستی کے کچھ لوگ اس کی اس مدد کو دوسری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسکول ماسٹر کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ ہر کسی کو اپنی صفائی دیتا ہے،لیکن کوئی اس کی بات پر یقین نہیں کرتا۔ پڑوسی عورتیں بیوہ کے ساتھ برا برتاؤ کرنے لگتی ہیں۔ اس سے افسردہ ہوکر وہ بستی چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جانے سے قبل وہ ماسٹر صاحب سے مل لینا چاہتی ہے۔ جب وہ ان کے گھر پہنچتی ہے تو ماسٹر صاحب اپنی چارپائی پر مرے پڑے ملتے ہیں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
