Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Masood Tanha's Photo'

مسعود تنہا

1978 | لاہور, پاکستان

مسعود تنہا کے اشعار

452
Favorite

باعتبار

یادوں کے قافلے میں اداسی تھی ہم رکاب

ہجرت میں تیرے شہر سے تنہاؔ نہیں گئے

شہر میں رونقیں سہی تنہاؔ

اپنے گاؤں سے مت کنارا کر

دوست ہی خوبیاں بتاتے ہیں

دوست ہی خامیاں نکالتے ہیں

یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا

ہر کوئی میرا خریدار نہیں ہو سکتا

دشت غربت میں ہم سفر نہ بنا

ہم کئی مہربان چھوڑ آئے

چپ جو رہتے ہیں تو یہ بات غنیمت جانو

ورنہ ہم لوگ بھی اک حشر اٹھا سکتے ہیں

میں جب بھی لڑا حق کے لیے اپنے عدو سے

میداں میں رہی کوئی نہ تلوار سلامت

آج آؤ اس طرح جیسے کہ پہلی بار تم

آ گئے تھے بے خیالی میں سنور کے سامنے

جہاں بھی دیکھا انہیں دوستو سلام کیا

ہمیشہ ہم نے حسینوں کا احترام کیا

کوئی تازہ لگاؤ زخم دل پر

پرانی یہ نشانی ہو رہی ہے

میں جانتا ہوں زمانے کی بے نیازی کو

مجھے پتا ہے سفر میں کہاں ٹھہرنا ہے

گناہوں نے مجھے جکڑا ہوا ہے اس طرح تنہاؔ

کہ لحظہ بھر عبادت بھی سزا معلوم ہوتی ہے

بارہا ہم نے اسے رو کے کہا ہے صاحب

دن جدائی کے نہیں ہم سے گزارے جاتے

بہت خاموش رہتا ہے جو تنہاؔ

وہ محفل میں برابر بولتا ہے

بزم یاراں میں بیٹھتا ہوں مگر

میری جانب حریف دیکھتے ہیں

امیر شہر کی تھوڑی سی کجروی کے سبب

غریب شہر نے دیکھے ہیں المیے کتنے

ہنسے والوں کو جو اک پل میں رلا سکتے ہیں

ایسے لمحات بھی تو زیست میں آ سکتے ہیں

اس بار اکھڑ جائیں گے ایوان سیاست

دربان رہیں گے نہ یہ دربار رہے گا

سلوک رکھتا ہے مجھ سے منافقوں جیسا

تمام شہر میں جو معتبر زیادہ ہے

زخم دیتا ہے ہر کوئی تنہاؔ

حوصلہ بھی دیا کرے کوئی

بچ کے نکلا تھا جو کبھی مجھ سے

آ گیا ہے مرے نشانے پر

کم ملنے کا احساس گراں لگتا ہے تیرا

اب لطف و کرم بھی ترا پہلے سا نہیں ہے

مار ڈالے گی ایک دن تنہاؔ

یہ تری شوخیٔ جمال مجھے

بہانے ترک تعلق کے کس نے ڈھونڈے تھے

یہ سارے حلقۂ یاراں میں فیصلے ہوں گے

جانے کیا کیا اور ہوں راہ طلب میں مشکلیں

ساتھ رکھنا ہے کبھی زاد سفر مت بھولنا

قافلے رہ میں لوٹنے والا

راہزن ایک رہنما نکلا

چھپا کر درد کو سینے میں تنہاؔ

بھرم اس کا بھی کچھ رکھنا پڑے گا

جنگل میں جو سناٹا تھا

شہر کی جانب آ نکلا ہے

جس کو راحت ہے تیری یادوں سے

تیری فرقت میں اشک بار بھی ہے

وہ سخی ہے تو اس کی چوکھٹ پر

دلبری کا سوال کر دیکھیں

حادثے پھر نہ پیش آتے ہمیں

یہ محافظ جو کرتے گھات پہ غور

مسیحائی کا ہو اعجاز جس میں

کہیں وہ چارہ گر ملتا نہیں ہے

بھنور نے آ لیا ہے کشتیوں کو

نظارے دیکھ لو تم بھی اجل کے

Recitation

بولیے