Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Masroor Jahan's Photo'

مسرور جہاں

1938 - 2019 | لکھنؤ, انڈیا

نسوانی مسائل اور بدلتی ہوئی سماجی و تہذیبی قدروں کی ترجمان فکشن نگار

نسوانی مسائل اور بدلتی ہوئی سماجی و تہذیبی قدروں کی ترجمان فکشن نگار

مسرور جہاں کا تعارف

تخلص : 'مسرور جہاں'

اصلی نام : مسرور خیال

پیدائش : 08 Jul 1938 | لکھنؤ, اتر پردیش

وفات : 22 Sep 2019 | لکھنؤ, اتر پردیش

LCCN :n90610272

شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار اور اردو ادب میں سماجی حقیقت نگاری کی معتبر آواز

بیگم مسرور جہاں (پیدائشی نام: مسرور خیال) 8 جولائی 1938ء کو لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔  ان کے دادا شیخ مہدی حسین ناصری لکھنوی کا شمار معروف شعراء و ادباء میں ہوتا تھا۔ ان کے شاگردوں میں فراق گورکھپوری اور ڈاکٹر پروفیسر اعجاز حسین کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ شاعری کے ساتھ ہی ساتھ درس و تدریس ان کا معاش ہی نہیں بلکہ محبوب دائرہ عمل تھا۔ مسرور جہاں کے والد کا نام نصیر حسین تھا جو بلند پایہ شاعر تھے اور خیال تخلص کرتے تھے وہ بھی تدریس کے پیشہ سے وابستہ تھے انھوں نے برسوں اسلامیہ کالج، لکھنؤ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئے۔

مسرور جہاں محض 16 برس کی عمر میں سید مرتضیٰ علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ زندگی کئی ذاتی صدمات سے عبارت رہی، جن میں دو بھائیوں اور ایک جواں سال بیٹے کی وفات شامل ہے۔

1960ء میں ان کا پہلا افسانہ ’’وہ کون تھی؟‘‘ لکھنؤ کے اردو جریدے ’’قومی آواز‘‘ میں شائع ہوا۔ 1962ء میں ان کا پہلا ناول 'ڈیسیژن' پاکستان میں شائع ہوا۔ ابتدا میں وہ ’’مسرور خیال‘‘ کے قلمی نام سے لکھتی رہیں، بعد ازاں ’’مسرور جہاں‘‘ کے نام سے شہرت حاصل کی۔

ان کی تحریریں ’’حریم‘‘ اور ’’بیسویں صدی‘‘ جیسے معروف رسائل میں شائع ہوتی رہیں۔ اگرچہ انہوں نے بڑی تعداد میں ناول تحریر کیے، تاہم ناقدین کے نزدیک ان کے افسانے تخلیقی اعتبار سے زیادہ پختہ اور اثر انگیز ہیں۔

بیگم مسرور جہاں کی تحریروں کا دائرہ وسیع ہے، جس میں متوسط طبقے سے لے کر اشرافیہ تک کی زندگی کے مختلف پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے خصوصاً عورتوں کے مسائل، گھریلو جبر، سماجی اقدار اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو موضوع بنایا۔

ان کا اسلوب نہایت حساس، متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے۔ وہ سماجی تنقید ضرور کرتی ہیں مگر کسی خاص ادبی تحریک سے وابستہ نہیں رہیں۔ ان کے یہاں انسانی نفسیات، رشتوں کی نزاکت اور دردِ مشترک کا گہرا شعور ملتا ہے۔

ان کا ناول ’’تاباں‘‘ (1970ء) ان کی شہرت کا بنیادی سبب بنا۔ اس کے علاوہ ’’جب گلے مٹ گئے‘‘ اور ’’کہاں ہو تم‘‘ جیسی تصانیف بھی خاصی مقبول ہوئیں۔

ناول ’’نئی بستی‘‘ (1982ء) میں انہوں نے شہری غریب طبقات اور غیر قانونی بستیوں کے مسائل کو موضوع بنایا۔

ان کا افسانوی مجموعہ ’’تیرے میرے دکھ‘‘ انسانی دکھوں کی مشترکہ کیفیت کی مؤثر عکاسی کے لیے سراہا گیا۔

ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2010ء اور 2015ء میں اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈز اور 2017ء میں ہندوستان ٹائمز ویمنز ایوارڈ سے نوازا گیا۔

وفات: بیگم مسرور جہاں کا انتقال 22 ستمبر 2019ء کو لکھنؤ میں برین اسٹروک کے باعث ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے