- کتاب فہرست 180350
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1361 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب971 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6484افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مسرور جہاں کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار اور اردو ادب میں سماجی حقیقت نگاری کی معتبر آواز
بیگم مسرور جہاں (پیدائشی نام: مسرور خیال) 8 جولائی 1938ء کو لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے دادا شیخ مہدی حسین ناصری لکھنوی کا شمار معروف شعراء و ادباء میں ہوتا تھا۔ ان کے شاگردوں میں فراق گورکھپوری اور ڈاکٹر پروفیسر اعجاز حسین کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ شاعری کے ساتھ ہی ساتھ درس و تدریس ان کا معاش ہی نہیں بلکہ محبوب دائرہ عمل تھا۔ مسرور جہاں کے والد کا نام نصیر حسین تھا جو بلند پایہ شاعر تھے اور خیال تخلص کرتے تھے وہ بھی تدریس کے پیشہ سے وابستہ تھے انھوں نے برسوں اسلامیہ کالج، لکھنؤ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئے۔
مسرور جہاں محض 16 برس کی عمر میں سید مرتضیٰ علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ زندگی کئی ذاتی صدمات سے عبارت رہی، جن میں دو بھائیوں اور ایک جواں سال بیٹے کی وفات شامل ہے۔
1960ء میں ان کا پہلا افسانہ ’’وہ کون تھی؟‘‘ لکھنؤ کے اردو جریدے ’’قومی آواز‘‘ میں شائع ہوا۔ 1962ء میں ان کا پہلا ناول 'ڈیسیژن' پاکستان میں شائع ہوا۔ ابتدا میں وہ ’’مسرور خیال‘‘ کے قلمی نام سے لکھتی رہیں، بعد ازاں ’’مسرور جہاں‘‘ کے نام سے شہرت حاصل کی۔
ان کی تحریریں ’’حریم‘‘ اور ’’بیسویں صدی‘‘ جیسے معروف رسائل میں شائع ہوتی رہیں۔ اگرچہ انہوں نے بڑی تعداد میں ناول تحریر کیے، تاہم ناقدین کے نزدیک ان کے افسانے تخلیقی اعتبار سے زیادہ پختہ اور اثر انگیز ہیں۔
بیگم مسرور جہاں کی تحریروں کا دائرہ وسیع ہے، جس میں متوسط طبقے سے لے کر اشرافیہ تک کی زندگی کے مختلف پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے خصوصاً عورتوں کے مسائل، گھریلو جبر، سماجی اقدار اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو موضوع بنایا۔
ان کا اسلوب نہایت حساس، متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے۔ وہ سماجی تنقید ضرور کرتی ہیں مگر کسی خاص ادبی تحریک سے وابستہ نہیں رہیں۔ ان کے یہاں انسانی نفسیات، رشتوں کی نزاکت اور دردِ مشترک کا گہرا شعور ملتا ہے۔
ان کا ناول ’’تاباں‘‘ (1970ء) ان کی شہرت کا بنیادی سبب بنا۔ اس کے علاوہ ’’جب گلے مٹ گئے‘‘ اور ’’کہاں ہو تم‘‘ جیسی تصانیف بھی خاصی مقبول ہوئیں۔
ناول ’’نئی بستی‘‘ (1982ء) میں انہوں نے شہری غریب طبقات اور غیر قانونی بستیوں کے مسائل کو موضوع بنایا۔
ان کا افسانوی مجموعہ ’’تیرے میرے دکھ‘‘ انسانی دکھوں کی مشترکہ کیفیت کی مؤثر عکاسی کے لیے سراہا گیا۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2010ء اور 2015ء میں اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈز اور 2017ء میں ہندوستان ٹائمز ویمنز ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وفات: بیگم مسرور جہاں کا انتقال 22 ستمبر 2019ء کو لکھنؤ میں برین اسٹروک کے باعث ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Masroor_Jahan
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n90610272
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
