- کتاب فہرست 182487
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم347 مضامين و خاكه1397 قصہ / داستان1588 صحت104 تاریخ3326طنز و مزاح610 صحافت202 زبان و ادب1720 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4345 سیاسی354 مذہبیات4816 تحقیق و تنقید6633افسانہ2692 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل110 تصوف2048نصابی کتاب452 ترجمہ4263خواتین کی تحریریں5817-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح183
- گیت63
- غزل1271
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4902
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت591
- نظم1220
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مہر زریں کا تعارف
تخلص : 'مہر'
اصلی نام : مہرالنساء بیگم
پیدائش : 15 Mar 1933 | مدھیہ پردیش
وفات : 13 Jun 2014 | اندور, مدھیہ پردیش
مہرالنسا مہر زریں1955 سے 1975 تک میں مدھیہ پردیش کی نمائندہ شاعرہ رہیں ترنم میں کلام پڑھتی تھیں، آل انڈیا ریڈیو سے بھی کلام نشر ہوتا تھا اور ملک کے موقر جرائد و رسائل میں بھی ان کا کلام شائع ہوتا رہا۔1966 میں ایچ ایم وی کمپنی نے ان کی نظم ’’مطربہ ساز اٹھا‘‘ پر گرامو فون ریکارڈ جاری کیا تھا۔
مہر کو بچپن سے ساز گار ادبی ماحول ملا تھا۔ چودہ برس کی عمر میں شادی ہوگئی تھی اورسن 1947 میں تقسیم ہند کے بعد کراچی چلی گئیں لیکن وہا ں ناسازگارحالت کی وجہ سے ایک سال بعد ہی واپس ہندوستاں آگئیں۔ اس کے بعد ان کی شاعری کا آغاز ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اردو میں ایم۔ اے اور بی ٹی کیا اور اسکول میں پڑھانے لگیں، زندگی میں کافی جدوجہد کرکے اپنے دو بیٹوں کی پرورش کی۔ سن 1915 میں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ڈٓاکٹر ایازقریشی نےان کا مجموعہ کلام ’’کشش‘‘ شائع کرایا جس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1992
-
