- کتاب فہرست 180685
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم347 مضامين و خاكه1372 قصہ / داستان1645 صحت108 تاریخ3324طنز و مزاح601 صحافت200 زبان و ادب1235
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات267 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6665افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے235 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب432 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1208
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
مہر زریں کا تعارف
تخلص : 'مہر'
اصلی نام : مہرالنساء بیگم
پیدائش : 15 Mar 1933 | مدھیہ پردیش
وفات : 13 Jun 2014 | اندور, مدھیہ پردیش
مہرالنسا مہر زریں1955 سے 1975 تک میں مدھیہ پردیش کی نمائندہ شاعرہ رہیں ترنم میں کلام پڑھتی تھیں، آل انڈیا ریڈیو سے بھی کلام نشر ہوتا تھا اور ملک کے موقر جرائد و رسائل میں بھی ان کا کلام شائع ہوتا رہا۔1966 میں ایچ ایم وی کمپنی نے ان کی نظم ’’مطربہ ساز اٹھا‘‘ پر گرامو فون ریکارڈ جاری کیا تھا۔
مہر کو بچپن سے ساز گار ادبی ماحول ملا تھا۔ چودہ برس کی عمر میں شادی ہوگئی تھی اورسن 1947 میں تقسیم ہند کے بعد کراچی چلی گئیں لیکن وہا ں ناسازگارحالت کی وجہ سے ایک سال بعد ہی واپس ہندوستاں آگئیں۔ اس کے بعد ان کی شاعری کا آغاز ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اردو میں ایم۔ اے اور بی ٹی کیا اور اسکول میں پڑھانے لگیں، زندگی میں کافی جدوجہد کرکے اپنے دو بیٹوں کی پرورش کی۔ سن 1915 میں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ڈٓاکٹر ایازقریشی نےان کا مجموعہ کلام ’’کشش‘‘ شائع کرایا جس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
-
