- کتاب فہرست 179910
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح614 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4863
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
مہر زریں کا تعارف
تخلص : 'مہر'
اصلی نام : مہرالنساء بیگم
پیدائش : 15 Mar 1933 | مدھیہ پردیش
وفات : 13 Jun 2014 | اندور, مدھیہ پردیش
مہرالنسا مہر زریں1955 سے 1975 تک میں مدھیہ پردیش کی نمائندہ شاعرہ رہیں ترنم میں کلام پڑھتی تھیں، آل انڈیا ریڈیو سے بھی کلام نشر ہوتا تھا اور ملک کے موقر جرائد و رسائل میں بھی ان کا کلام شائع ہوتا رہا۔1966 میں ایچ ایم وی کمپنی نے ان کی نظم ’’مطربہ ساز اٹھا‘‘ پر گرامو فون ریکارڈ جاری کیا تھا۔
مہر کو بچپن سے ساز گار ادبی ماحول ملا تھا۔ چودہ برس کی عمر میں شادی ہوگئی تھی اورسن 1947 میں تقسیم ہند کے بعد کراچی چلی گئیں لیکن وہا ں ناسازگارحالت کی وجہ سے ایک سال بعد ہی واپس ہندوستاں آگئیں۔ اس کے بعد ان کی شاعری کا آغاز ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اردو میں ایم۔ اے اور بی ٹی کیا اور اسکول میں پڑھانے لگیں، زندگی میں کافی جدوجہد کرکے اپنے دو بیٹوں کی پرورش کی۔ سن 1915 میں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ڈٓاکٹر ایازقریشی نےان کا مجموعہ کلام ’’کشش‘‘ شائع کرایا جس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
