محمد باقر شمس کے اشعار
مسکراہٹ لب نازک پہ نگاہیں نیچی
کس سے سیکھا ہے یہ انداز دل آرائی کا
خاک کے ذروں سے اف اف کی صدا آتی ہے
میرا افسانۂ غم قصۂ ماضی نہ ہوا
سامنا جب ہوا محشر میں تو کچھ کہہ نہ سکا
مجھ سے دیکھا نہ گیا ان کا پریشاں ہونا
حشر میں چھوڑ دیا دیکھ کے اترا ہوا منہ
آ چکا تھا مرے ہاتھوں میں گریباں ان کا
چارہ گر کیا سمجھ سکیں گے بھلا
درد کیسا ہے اور دوا کیا ہے
آنکھیں لگی ہیں در پہ نکلتا نہیں ہے دم
ٹھہری ہوئی ہے روح ترے انتظار میں
کوئی ویرانہ مرے ذوق کے قابل نہ ملا
اب کہاں لے کے مجھے جائے گی وحشت میری
کبھی دنیا میں پھر نہ ہوگی سحر
ہجر کی شب اگر سحر نہ ہوئی
نظر لگنے کا ان کے واسطے گنڈا بنانے کو
بچا رکھے ہیں میں نے تار کچھ اپنے گریباں میں
کتنے ہی پائے صنم پر کیے سجدے میں نے
کبھی پورا نہ ہوا شوق جبیں سائی کا
دیکھا جو مجھ کو پھیر کے منہ مسکرا دئے
بجلی گری تڑپ کے دل بے قرار پر
ہے گور غریباں میں وہی شمسؔ کا مدفن
تربت جو کوئی دل کے دھڑکنے کی صدا دے
آنکھ ساقی سے ملی جیسے ہی مے خانہ میں
کھنچ کے مے آ گئی پیمانے سے پیمانے میں
ملتے ہی آنکھ اس فسوں گر سے
دل گیا اور ہمیں خبر نہ ہوئی
بجلی گرائی طور جلایا اڑائے ہوش
اتنا جلال اک ارنی کے سوال پر
دیکھا جو میں نے نامۂ اعمال حشر میں
قصہ لکھا تھا میرے اور ان کے شباب کا
خوف محشر نہ رہا دل میں جو دیکھا میں نے
پشت پر میرے گناہوں کے ہے رحمت اس کی
ہوک جب دل سے اٹھی ضبط فغاں کر نہ سکا
راز اس گھر کا جو تھا مجھ سے وہ مخفی نہ ہوا
کچھ نہ پوچھو درازیٔ شب ہجر
کٹ گئی عمر اور سحر نہ ہوئی
سب زخم ہیں ہرے ہے لہو سے قبا بھی سرخ
لایا ہے رنگ جوش جنوں پھر بہار میں
فتنہ زا وحشت فزا دام قضا ہوتے گئے
جس قدر بڑھتے گئے گیسو بلا ہوتے گئے
شعلۂ عشق اگر دل میں فروزاں ہو جائے
بڑھ کے یہ قطرۂ خوں مہر درخشاں ہو جائے
آئے عدم سے گلشن ہستی کی سیر کو
دامن الجھ گیا ہے یہاں خار زار میں
مے نوشی حق نے دار بقا میں بھی کی حلال
کہتا ہے شیخ دار فنا میں حرام ہے
دم نکلتا ہے تری زلف کے سودائی کا
جھلملاتا ہے ستارہ شب تنہائی کا
اے خوشا عہد عدم فکر سے آزاد تھے ہم
ایک دن بھی نہ یہاں قید محن سے نکلے
قابو میں رکھے ابلق لیل و نہار کو
دیکھا نہ میں نے ایسا کسی شہسوار کو
دیکھا جو دن کو اس نے سوئے چرخ بے مدار
سونا اتر گیا ورق آفتاب کا
ہے عجب طرح کی یہ کشمکش موت و حیات
نہ میں جینے پہ ہوں راضی نہ وہ مر جانے پر