- کتاب فہرست 188990
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2300نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5417
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
مجتبی حسین کے مضامین
پریم چند
’’بڑوں کے پاس دولت ہوتی ہے۔ چھوٹوں کے پاس دل ہوتا۔ دولت سے عالیشان محل بنتے ہیں۔ عیاشیاں ہوتی ہیں۔ مقدمہ بازیاں کی جاتی ہیں۔ رعب جتایاجاتا ہے اور انسانوں کو کچلا جاتا ہے۔ دل سے ہمدردی ہوتی ہے۔ زخم پر مرحم رکھا جاتا ہے اور آنسو نکلتے ہیں۔‘‘ (زادِ راہ
ادب میں نظریے کا استعمال
ادب اور نظریے کے ایک ساتھ ذکر ہی سے ہمارے ذہن میں ادب برائے ادب، ادب برائے زندگی اور دوسرے مختلف مباحث کا تصور پیدا ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی بحثوں میں الجھنے کے اب مشکل ہی سے کوئی معنی رہ گئے ہیں۔ ’’ادب برائے ادب‘‘ کی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
