- کتاب فہرست 180730
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6692افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد60
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4875
- مرثیہ386
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت591
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
مجتبی حسین کے مضامین
پریم چند
’’بڑوں کے پاس دولت ہوتی ہے۔ چھوٹوں کے پاس دل ہوتا۔ دولت سے عالیشان محل بنتے ہیں۔ عیاشیاں ہوتی ہیں۔ مقدمہ بازیاں کی جاتی ہیں۔ رعب جتایاجاتا ہے اور انسانوں کو کچلا جاتا ہے۔ دل سے ہمدردی ہوتی ہے۔ زخم پر مرحم رکھا جاتا ہے اور آنسو نکلتے ہیں۔‘‘ (زادِ راہ
ادب میں نظریے کا استعمال
ادب اور نظریے کے ایک ساتھ ذکر ہی سے ہمارے ذہن میں ادب برائے ادب، ادب برائے زندگی اور دوسرے مختلف مباحث کا تصور پیدا ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی بحثوں میں الجھنے کے اب مشکل ہی سے کوئی معنی رہ گئے ہیں۔ ’’ادب برائے ادب‘‘ کی
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
