- کتاب فہرست 177595
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5840-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مختار تلہری کے اشعار
مختار تلہریاک تو ویسے ہی اداسی کی گھٹا چھائی ہے
اور چھیڑوگے تو آنسو بھی نکل سکتے ہیں
مختار تلہریآپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں
یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں
مختار تلہریروشنی کے لئے مختارؔ جلائے تھے چراغ
کیا خبر تھی کہ مرے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں
مختار تلہریآج ایسی وادیوں سے ہو کے آیا ہوں جہاں
پیڑ تھے نزدیک لیکن دور تک سایہ نہ تھا
مختار تلہریتھکا دیا ہے مجھے اس قدر مسافت نے
سفر کے نام سے اب روح کانپ جاتی ہے
مختار تلہریشدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے
ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں
مختار تلہریجس وقت ہوا کرتی ہے بے چین طبیعت
اس وقت بیابان سے لگتے ہیں چمن بھی
مختار تلہریرہا نہ کام اس کی جستجو میں
ادھر میں خود سے بھی گم ہو گیا ہوں
مختار تلہریہمارے ذہن پہ اس کا اثر تو اب بھی ہے
بچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہے
مختار تلہریمری ہنسی کو سر بزم سہہ لیا اس نے
پھر اس کے بعد اکیلے میں انتقام لیا
مختار تلہریہماری سمت سے بے رغبتی نہ کر ورنہ
ترے بغیر قرار آ گیا تو کیا ہوگا
مختار تلہریمٹانا چاہوں تو ممکن کہاں مٹا بھی سکوں
وہ ایک بال جو آئینۂ خیال میں ہے
مختار تلہریارادے پھر بھی مستحکم بہت ہیں
مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
مختار تلہریان سے باتیں کرتے کرتے دل میں ٹیس چمک اٹھی تھی
لفظوں پر پھولوں کی ردا تھی معنی میں نشتر پنہاں تھے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
