- کتاب فہرست 182641
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1605 صحت105 تاریخ3306طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1717 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4333 سیاسی355 مذہبیات4778 تحقیق و تنقید6636افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2043نصابی کتاب452 ترجمہ4263خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1289
- دوہا50
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1266
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4888
- مرثیہ387
- مثنوی750
- مسدس44
- نعت588
- نظم1216
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مختار تلہری کے اشعار
مختار تلہریاک تو ویسے ہی اداسی کی گھٹا چھائی ہے
اور چھیڑوگے تو آنسو بھی نکل سکتے ہیں
مختار تلہریآپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں
یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں
مختار تلہریروشنی کے لئے مختارؔ جلائے تھے چراغ
کیا خبر تھی کہ مرے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں
مختار تلہریآج ایسی وادیوں سے ہو کے آیا ہوں جہاں
پیڑ تھے نزدیک لیکن دور تک سایہ نہ تھا
مختار تلہریتھکا دیا ہے مجھے اس قدر مسافت نے
سفر کے نام سے اب روح کانپ جاتی ہے
مختار تلہریشدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے
ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں
مختار تلہریجس وقت ہوا کرتی ہے بے چین طبیعت
اس وقت بیابان سے لگتے ہیں چمن بھی
مختار تلہریرہا نہ کام اس کی جستجو میں
ادھر میں خود سے بھی گم ہو گیا ہوں
مختار تلہریہمارے ذہن پہ اس کا اثر تو اب بھی ہے
بچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہے
مختار تلہریمری ہنسی کو سر بزم سہہ لیا اس نے
پھر اس کے بعد اکیلے میں انتقام لیا
مختار تلہریہماری سمت سے بے رغبتی نہ کر ورنہ
ترے بغیر قرار آ گیا تو کیا ہوگا
مختار تلہریمٹانا چاہوں تو ممکن کہاں مٹا بھی سکوں
وہ ایک بال جو آئینۂ خیال میں ہے
مختار تلہریارادے پھر بھی مستحکم بہت ہیں
مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
مختار تلہریان سے باتیں کرتے کرتے دل میں ٹیس چمک اٹھی تھی
لفظوں پر پھولوں کی ردا تھی معنی میں نشتر پنہاں تھے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
-
