- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مختار تلہری کے اشعار
مختار تلہریاک تو ویسے ہی اداسی کی گھٹا چھائی ہے
اور چھیڑوگے تو آنسو بھی نکل سکتے ہیں
مختار تلہریآپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں
یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں
مختار تلہریروشنی کے لئے مختارؔ جلائے تھے چراغ
کیا خبر تھی کہ مرے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں
مختار تلہریآج ایسی وادیوں سے ہو کے آیا ہوں جہاں
پیڑ تھے نزدیک لیکن دور تک سایہ نہ تھا
مختار تلہریتھکا دیا ہے مجھے اس قدر مسافت نے
سفر کے نام سے اب روح کانپ جاتی ہے
مختار تلہریشدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے
ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں
مختار تلہریجس وقت ہوا کرتی ہے بے چین طبیعت
اس وقت بیابان سے لگتے ہیں چمن بھی
مختار تلہریرہا نہ کام اس کی جستجو میں
ادھر میں خود سے بھی گم ہو گیا ہوں
مختار تلہریہمارے ذہن پہ اس کا اثر تو اب بھی ہے
بچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہے
مختار تلہریمری ہنسی کو سر بزم سہہ لیا اس نے
پھر اس کے بعد اکیلے میں انتقام لیا
مختار تلہریہماری سمت سے بے رغبتی نہ کر ورنہ
ترے بغیر قرار آ گیا تو کیا ہوگا
مختار تلہریمٹانا چاہوں تو ممکن کہاں مٹا بھی سکوں
وہ ایک بال جو آئینۂ خیال میں ہے
مختار تلہریارادے پھر بھی مستحکم بہت ہیں
مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
مختار تلہریان سے باتیں کرتے کرتے دل میں ٹیس چمک اٹھی تھی
لفظوں پر پھولوں کی ردا تھی معنی میں نشتر پنہاں تھے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
