Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mukhtar Tilhari's Photo'

مختار تلہری

1960 | بریلی, انڈیا

مختار تلہری کے اشعار

72
Favorite

باعتبار

دل دکھانا مرا نہیں مقصد

حق بیانی مری نہیں جاتی

اک تو ویسے ہی اداسی کی گھٹا چھائی ہے

اور چھیڑوگے تو آنسو بھی نکل سکتے ہیں

آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں

یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں

روشنی کے لئے مختارؔ جلائے تھے چراغ

کیا خبر تھی کہ مرے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں

آج ایسی وادیوں سے ہو کے آیا ہوں جہاں

پیڑ تھے نزدیک لیکن دور تک سایہ نہ تھا

تھکا دیا ہے مجھے اس قدر مسافت نے

سفر کے نام سے اب روح کانپ جاتی ہے

شدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے

ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں

جس وقت ہوا کرتی ہے بے چین طبیعت

اس وقت بیابان سے لگتے ہیں چمن بھی

رہا نہ کام اس کی جستجو میں

ادھر میں خود سے بھی گم ہو گیا ہوں

ہمارے ذہن پہ اس کا اثر تو اب بھی ہے

بچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہے

مری ہنسی کو سر بزم سہہ لیا اس نے

پھر اس کے بعد اکیلے میں انتقام لیا

ہماری سمت سے بے رغبتی نہ کر ورنہ

ترے بغیر قرار آ گیا تو کیا ہوگا

مٹانا چاہوں تو ممکن کہاں مٹا بھی سکوں

وہ ایک بال جو آئینۂ خیال میں ہے

ارادے پھر بھی مستحکم بہت ہیں

مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں

وہ آئیں ہم سے دلیل مانگیں

جو کہہ رہے ہیں خدا نہیں ہے

ان سے باتیں کرتے کرتے دل میں ٹیس چمک اٹھی تھی

لفظوں پر پھولوں کی ردا تھی معنی میں نشتر پنہاں تھے

Recitation

بولیے