- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
ڈرامہ926 تعلیم344 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3296طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4320 سیاسی354 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6625افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4255خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4882
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1210
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مشتاق احمد کا تعارف
شناخت: نقاد، محقق، کالم نگار، شاعر، اور ریسرچ جرنل 'جہانِ اردو' کے مدیر
ڈاکٹر مشتاق احمد 21 نومبر 1967ء کو بہار کے ضلع مدھوبنی کے قصبہ سکری میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان میں زراعت اور درس و تدریس دونوں روایتیں موجود رہی ہیں۔ ان کے والد عبدالحکیم صاحب محکمۂ ریلوے کے ایک اسکول میں استاد تھے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد بھی تدریسی خدمات سے وابستہ رہے۔ اسی علمی ماحول نے ان کے اندر تعلیم اور تحقیق کا شوق پیدا کیا۔
ڈاکٹر مشتاق احمد کی ابتدائی تعلیم گھر پر دینی تعلیم سے شروع ہوئی، بعد ازاں سکری کے مکتب اور مقامی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم رہے۔ انہوں نے ایس۔کے۔ ہائی اسکول، پنڈول (مدھوبنی) سے اسکولی تعلیم حاصل کی، آر۔این۔ کالج سے گریجویشن کیا، پھر دہلی سے ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا۔ اردو زبان و ادب سے گہری وابستگی کے باعث اردو میں ایم اے، پی ایچ ڈی، نیٹ اور جے آر ایف کی اسناد حاصل کیں۔
1996ء میں ان کی تقرری ایچ۔ایس۔ کالج، مدھے پورہ میں بطور اردو لکچرر ہوئی۔ تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تحقیق، تنقید اور صحافت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ ملت کالج، دربھنگہ کے پرنسپل مقرر ہوئے اور مختلف کالجوں میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد میتھلا یونیورسٹی کے رجسٹرار بھی رہے۔ اس وقت وہ سی۔ایم۔ کالج، دربھنگہ کے پرنسپل کی حیثیت سے علمی و انتظامی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر مشتاق احمد اردو تحقیق و تنقید کے معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جبکہ تحقیق و تصنیف کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں ’’تنقیدی بصیرت‘‘، ’’تنقید کے تقاضے‘‘، ’’مثنوی درِ شہوار مع تنقیدی مطالعہ‘‘، ’’اقبال کی عصری معنویت‘‘، ’’بہار میں اردو تحقیق و تنقید‘‘، ’’آئینہ حیران ہے‘‘ اور ’’زرد موسم کی نظمیں‘‘ شامل ہیں۔
صحافت اور کالم نگاری سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔ 1980ء کی دہائی سے ان کے مضامین اور کالم مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کے کالموں کے مجموعے ’’جہانِ فکر‘‘، ’’چراغِ فکر‘‘ اور ’’ایوانِ فکر‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ 2001ء سے وہ تحقیقی جریدہ ’’جہانِ اردو‘‘ کی ادارت بھی کر رہے ہیں، جو اردو تحقیق کے اہم جرائد میں شمار ہوتا ہے۔
شاعری سے بھی انہیں دلچسپی رہی ہے۔ طالب علمی کے زمانے سے شعر کہتے رہے اور اپنے کلام کی اصلاح استاد فتح محمد مہر شکروی اور ابوالقیس قیصر سے لیتے رہے۔ ان کی شاعری میں فکری حساسیت، سماجی شعور اور عصری مسائل کی بازگشت نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
تعلیم، تحقیق، صحافت اور سماجی اصلاح کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں علمی و ادبی حلقوں میں انہیں خاص احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مددگار لنک : | http://www.drmushtaqueahmad.in/
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
-
