نعیم نجمی کے اشعار
روشنی سارے گھر میں ہوتی تھی
ہم نے دیکھا ہے لالٹین کا دور
مجھ سے باتیں کرو محبت کی
طالب علم ہوں میں اردو کا
دیکھا مجھے تو کہنے لگے تو یہ کس لئے
دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا
اے امیری اگر ہے تجھ میں دم
کسی درویش سے الجھ کر دیکھ
ایک جلتے بجھتے منظر کے حوالے کر دیا
زندگی تجھ کو مقدر کے حوالے کر دیا
وقت افطار تم بھی آ جانا
میری آنکھیں بھی روزہ کھولیں گی
میرے ہی جسم کے زنداں میں مجھے اے نجمیؔ
قید کر رکھا ہے خود میری انا نے مجھ کو
زندگی کو عذاب ہونے دو
حسن کو بے نقاب ہونے دو
دریا کے پار ہم تو کبھی کے اتر گئے
کچھ لوگ آس پاس تھے جانے کدھر گئے