Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Naeem Najmi's Photo'

نعیم نجمی

1958 | رام پور, انڈیا

نعیم نجمی کے اشعار

3
Favorite

باعتبار

روشنی سارے گھر میں ہوتی تھی

ہم نے دیکھا ہے لالٹین کا دور

مجھ سے باتیں کرو محبت کی

طالب علم ہوں میں اردو کا

دیکھا مجھے تو کہنے لگے تو یہ کس لئے

دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا

اے امیری اگر ہے تجھ میں دم

کسی درویش سے الجھ کر دیکھ

ایک جلتے بجھتے منظر کے حوالے کر دیا

زندگی تجھ کو مقدر کے حوالے کر دیا

وقت افطار تم بھی آ جانا

میری آنکھیں بھی روزہ کھولیں گی

میرے ہی جسم کے زنداں میں مجھے اے نجمیؔ

قید کر رکھا ہے خود میری انا نے مجھ کو

ذہن جب فکر کے حصار میں تھا

دل کہاں اپنے اختیار میں تھا

زندگی کو عذاب ہونے دو

حسن کو بے نقاب ہونے دو

دریا کے پار ہم تو کبھی کے اتر گئے

کچھ لوگ آس پاس تھے جانے کدھر گئے

ابھی موسم نہیں ہے زخموں کا

ابھی پھیکا ہے رنگ غزلوں کا

Recitation

بولیے