- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
تمام
تعارف
ای-کتاب159
افسانہ233
مضمون40
قول107
افسانچہ29
طنز و مزاح1
خاکہ24
ڈرامہ59
ترجمہ2
ویڈیو 79
گیلری 4
بلاگ5
دیگر
ترجمہ28
ناولٹ1
خط10
سعادت حسن منٹو کے خطوط
چچا سام کے نام دوسرا خط
مکرمی و محترمی چچا جان تسلیمات! عرصہ ہوا میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط ارسال کیا تھا۔ آپ کی طرف سے تو اس کی کوئی رسید نہ آئی مگر کچھ دن ہوئے آپ کے سفارت خانے کے ایک صاحب جن کا اسم گرامی مجھے اس وقت یاد نہیں، شام کو میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔
چچا سام کے نام ایک خط
۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ، لاہور مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۵۱ء چچا جان، السلام علیکم! یہ خط آپ کے پاکستانی بھتیجے کی طرف سے ہے، جسے آپ نہیں جانتے۔ جسے آپ کی سات آزادیوں کی مملکت میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔ میرا ملک ہندوستان سے کٹ کر کیوں بنا، کیسے
چچا سام کے نام تیسرا خط
چچا جان تسلیمات! بہت مدت کے بعد آپ کو مخاطب کر رہا ہوں۔ میں در اصل بیمار تھا۔ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز تھا ساقی۔ مگر معلوم ہوا کہ یہ محض شاعری ہی شاعری ہے۔ معلوم نہیں ساقی کس جانور کا نام ہے۔ آپ لوگ تو اسے عمر خیام کی رباعیوں والی حسین و جمیل
چچا سام کے نام پانچواں خط
محترمی چچا جان! تسلیمات، میں اب تک آپ کو ’’پیارے چچا جان‘‘ سے خطاب کرتا رہا ہوں پر اب کی دفعہ میں نے ’’محترمی چچا جان‘‘ لکھا ہے، اس لئے کہ میں ناراض ہوں۔ ناراضی کا باعث یہ ہے کہ آپ نے مجھے میرا تحفہ (ایٹم بم) ابھی تک نہیں بھیجا۔ بتایئے یہ بھی
چچا سام کے نام چوتھا خط
۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ، لاہور، پاکستان چچا جان۔ آداب و نیاز! ابھی چند روز ہوئے میں نے آپ کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا تھا۔ اب یہ دوسرا لکھ رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جوں جوں آپ کی پاکستان کو فوجی امداد دینے کی بات پختہ ہو رہی ہے، میری عقیدت
چچا منٹو کے نام ایک بھتیجے کا خط
۱۱ مئی ۱۹۵۲ء چچا منٹو صاحب السلام علیکم۔ یہ خط اس بھتیجے کی طرف سے ہے جسے آپ نہیں جانتے اور نہ جسے آپ نے جاننے کی کبھی کوشش کی۔ جسے پاکستان میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا اور وہ اپنے کام سے بچے ہوئے اس تھوڑے سے وقت میں آپ جیسے بلند پایہ ادیب کو
چچا سام کے نام آٹھواں خط
چچا جان، تسلیم و نیاز۔ امید ہے کہ میرا ساتواں خط آپ کو مل گیا ہوگا۔ اس کے جواب کا مجھے انتظار ہے۔ کیا آپ نے روسی ثقافتی وفد کے توڑ میں کوئی ایسا ہی ثقافتی اور خیر سگالی وفد یہاں پاکستان میں بھیجنے کا ارادہ کر لیا۔۔۔؟ مجھے اس سے ضرور مطلع فرمایئے
چچا سام کے نام نواں خط
چچا جان۔ السلام علیکم۔ میرا پچھلا خط نامکمل تھا۔ بس مجھے صرف اتنا ہی یاد رہا ہے۔ اگر یاد آ گیا کہ میں نے اس میں کیا لکھا تھا تو میں اس کو مکمل کر دوں گا۔ میرا حافظہ یہاں کی کشید کی ہوئی شرابیں پی پی کر بہت کمزور ہو گیا ہے۔ یوں تو پنجاب میں شراب
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
