- کتاب فہرست 177115
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6600افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت579
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
تمام
تعارف
ای-کتاب161
افسانہ233
مضمون40
اقوال107
افسانچے29
طنز و مزاح1
خاکہ24
ڈرامہ59
ترجمہ2
ویڈیو 79
گیلری 4
بلاگ5
دیگر
ترجمہ28
ناولٹ1
خط10
سعادت حسن منٹو کے خطوط
چچا سام کے نام دوسرا خط
مکرمی و محترمی چچا جان تسلیمات! عرصہ ہوا میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط ارسال کیا تھا۔ آپ کی طرف سے تو اس کی کوئی رسید نہ آئی مگر کچھ دن ہوئے آپ کے سفارت خانے کے ایک صاحب جن کا اسم گرامی مجھے اس وقت یاد نہیں، شام کو میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔
چچا سام کے نام ایک خط
۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ، لاہور مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۵۱ء چچا جان، السلام علیکم! یہ خط آپ کے پاکستانی بھتیجے کی طرف سے ہے، جسے آپ نہیں جانتے۔ جسے آپ کی سات آزادیوں کی مملکت میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا۔ میرا ملک ہندوستان سے کٹ کر کیوں بنا، کیسے
چچا سام کے نام تیسرا خط
چچا جان تسلیمات! بہت مدت کے بعد آپ کو مخاطب کر رہا ہوں۔ میں در اصل بیمار تھا۔ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز تھا ساقی۔ مگر معلوم ہوا کہ یہ محض شاعری ہی شاعری ہے۔ معلوم نہیں ساقی کس جانور کا نام ہے۔ آپ لوگ تو اسے عمر خیام کی رباعیوں والی حسین و جمیل
چچا سام کے نام پانچواں خط
محترمی چچا جان! تسلیمات، میں اب تک آپ کو ’’پیارے چچا جان‘‘ سے خطاب کرتا رہا ہوں پر اب کی دفعہ میں نے ’’محترمی چچا جان‘‘ لکھا ہے، اس لئے کہ میں ناراض ہوں۔ ناراضی کا باعث یہ ہے کہ آپ نے مجھے میرا تحفہ (ایٹم بم) ابھی تک نہیں بھیجا۔ بتایئے یہ بھی
چچا سام کے نام چوتھا خط
۳۱ لکشمی مینشنز ہال روڈ، لاہور، پاکستان چچا جان۔ آداب و نیاز! ابھی چند روز ہوئے میں نے آپ کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا تھا۔ اب یہ دوسرا لکھ رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جوں جوں آپ کی پاکستان کو فوجی امداد دینے کی بات پختہ ہو رہی ہے، میری عقیدت
چچا منٹو کے نام ایک بھتیجے کا خط
۱۱ مئی ۱۹۵۲ء چچا منٹو صاحب السلام علیکم۔ یہ خط اس بھتیجے کی طرف سے ہے جسے آپ نہیں جانتے اور نہ جسے آپ نے جاننے کی کبھی کوشش کی۔ جسے پاکستان میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا اور وہ اپنے کام سے بچے ہوئے اس تھوڑے سے وقت میں آپ جیسے بلند پایہ ادیب کو
چچا سام کے نام آٹھواں خط
چچا جان، تسلیم و نیاز۔ امید ہے کہ میرا ساتواں خط آپ کو مل گیا ہوگا۔ اس کے جواب کا مجھے انتظار ہے۔ کیا آپ نے روسی ثقافتی وفد کے توڑ میں کوئی ایسا ہی ثقافتی اور خیر سگالی وفد یہاں پاکستان میں بھیجنے کا ارادہ کر لیا۔۔۔؟ مجھے اس سے ضرور مطلع فرمایئے
چچا سام کے نام نواں خط
چچا جان۔ السلام علیکم۔ میرا پچھلا خط نامکمل تھا۔ بس مجھے صرف اتنا ہی یاد رہا ہے۔ اگر یاد آ گیا کہ میں نے اس میں کیا لکھا تھا تو میں اس کو مکمل کر دوں گا۔ میرا حافظہ یہاں کی کشید کی ہوئی شرابیں پی پی کر بہت کمزور ہو گیا ہے۔ یوں تو پنجاب میں شراب
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
