- کتاب فہرست 180312
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1359 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6509افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سیفی سرونجی کا تعارف
طوفان آئے شہر میں یا کوئی زلزلہ
مجھ کو کسی بھی بات کا اب ڈر نہیں رہا
شناخت: زود نویس ادیب اور شاعر
سیفی سیرونجی (اصل نام: رمضانی سیفی) 1952ء میں ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشہ کی تحصیل سیرونج کے گاؤں مہوا کھیڑا میں پیدا ہوئے۔
سیفی سیرونجی کا بچپن ایک ایسے ماحول میں گزرا جہاں تعلیم کا کوئی خاص رواج نہیں تھا۔ خود ان کے بیان کے مطابق انہوں نے نہ کبھی اسکول کا منہ دیکھا اور نہ ہی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ گھریلو حالات اور معاشی ضرورتوں کے باعث انہوں نے ایک بیڑی کے کارخانے میں کام شروع کیا۔ یہی کارخانہ دراصل ان کے ادبی سفر کی بنیاد بنا، جہاں شعری نشستوں اور ادبی ماحول نے ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کیا۔
بغیر کسی رسمی تعلیم کے انہوں نے خود سے سیکھنے کا عمل جاری رکھا، یہاں تک کہ ان کی نظمیں، نعتیں اور غزلیں اخبارات و رسائل میں شائع ہونے لگیں۔ بعد ازاں لوگوں کے مشورے پر انہوں نے ادیب، ماہر اور کامل کے کورسز مکمل کیے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے ایک سرکاری اسکول میں بحیثیت استاد تقرر پایا۔
سیفی سیرونجی ایک زود نویس ادیب ہیں۔ انہوں نے تقریباً 1500 غزلیں، سینکڑوں مضامین اور متعدد افسانے تحریر کیے۔ ان کے 8 شعری مجموعے، تنقیدی مضامین کی 8 کتابیں اور مجموعی طور پر تقریباً 75 کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "یہ تو سچا قصہ ہے" (آپ بیتی)، "سیرونج سے لندن تک", "مشاہیر کے خطوط", "نئے امکانات", "جدید شاعری کا بھوت" اور "اکیسویں صدی اور اردو ناول" شامل ہیں۔
ان کی خود نوشت "یہ تو سچا قصہ ہے" خاص طور پر مقبول ہوئی، جس پر بھارت، پاکستان، امریکہ اور کینیڈا کے متعدد قلمکاروں نے اظہارِ خیال کیا، اور یہ مضامین ایک مجموعے کی صورت میں بھی شائع ہوئے۔
سیفی سیرونجی ایک فعال ادبی کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے رسالہ "انتساب عالمی" کے ذریعے مختلف ادیبوں پر خصوصی شمارے شائع کیے، جن میں بشیر بدر، خالد محمود، ندا فاضلی، گوپی چند نارنگ، انجم عثمانی اور چندر بھان خیال جیسے اہم نام شامل ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ اس رسالے میں ادبی شخصیات پر مسلسل اداریے بھی تحریر کر رہے ہیں۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89215279
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
