- کتاب فہرست 182592
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ926 تعلیم343 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3287طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط744
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4315 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6620افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4877
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سیفی سرونجی کا تعارف
طوفان آئے شہر میں یا کوئی زلزلہ
مجھ کو کسی بھی بات کا اب ڈر نہیں رہا
شناخت: زود نویس ادیب اور شاعر
سیفی سیرونجی (اصل نام: رمضانی سیفی) 1952ء میں ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشہ کی تحصیل سیرونج کے گاؤں مہوا کھیڑا میں پیدا ہوئے۔
سیفی سیرونجی کا بچپن ایک ایسے ماحول میں گزرا جہاں تعلیم کا کوئی خاص رواج نہیں تھا۔ خود ان کے بیان کے مطابق انہوں نے نہ کبھی اسکول کا منہ دیکھا اور نہ ہی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ گھریلو حالات اور معاشی ضرورتوں کے باعث انہوں نے ایک بیڑی کے کارخانے میں کام شروع کیا۔ یہی کارخانہ دراصل ان کے ادبی سفر کی بنیاد بنا، جہاں شعری نشستوں اور ادبی ماحول نے ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کیا۔
بغیر کسی رسمی تعلیم کے انہوں نے خود سے سیکھنے کا عمل جاری رکھا، یہاں تک کہ ان کی نظمیں، نعتیں اور غزلیں اخبارات و رسائل میں شائع ہونے لگیں۔ بعد ازاں لوگوں کے مشورے پر انہوں نے ادیب، ماہر اور کامل کے کورسز مکمل کیے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے ایک سرکاری اسکول میں بحیثیت استاد تقرر پایا۔
سیفی سیرونجی ایک زود نویس ادیب ہیں۔ انہوں نے تقریباً 1500 غزلیں، سینکڑوں مضامین اور متعدد افسانے تحریر کیے۔ ان کے 8 شعری مجموعے، تنقیدی مضامین کی 8 کتابیں اور مجموعی طور پر تقریباً 75 کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "یہ تو سچا قصہ ہے" (آپ بیتی)، "سیرونج سے لندن تک", "مشاہیر کے خطوط", "نئے امکانات", "جدید شاعری کا بھوت" اور "اکیسویں صدی اور اردو ناول" شامل ہیں۔
ان کی خود نوشت "یہ تو سچا قصہ ہے" خاص طور پر مقبول ہوئی، جس پر بھارت، پاکستان، امریکہ اور کینیڈا کے متعدد قلمکاروں نے اظہارِ خیال کیا، اور یہ مضامین ایک مجموعے کی صورت میں بھی شائع ہوئے۔
سیفی سیرونجی ایک فعال ادبی کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے رسالہ "انتساب عالمی" کے ذریعے مختلف ادیبوں پر خصوصی شمارے شائع کیے، جن میں بشیر بدر، خالد محمود، ندا فاضلی، گوپی چند نارنگ، انجم عثمانی اور چندر بھان خیال جیسے اہم نام شامل ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ اس رسالے میں ادبی شخصیات پر مسلسل اداریے بھی تحریر کر رہے ہیں۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89215279
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
