- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سید شجاع احمد قائد کا تعارف
پیدائش : 21 Jun 1919 | بلگرام, اتر پردیش
وفات : 04 May 1968 | حیدر آباد, تلنگانہ
شناخت: سید شجاع احمد قائد ایک ممتاز براڈ کاسٹر، ادیب، ڈرامہ نگار، مترجم، اداکار اور شاعر تھے، جنہوں نے ریڈیو اور اردو ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
سید شجاع احمد قائد 21 جون 1919ء کو بلگرام کے ایک معزز زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید علی احمد کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا، جس کے بعد انہوں نے کم عمری میں ہی اپنی والدہ کے ساتھ گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ حالات کی سختیوں کے باوجود انہوں نے تعلیم کا دامن نہیں چھوڑا اور فارسی میں منشی فاضل، اردو میں ادیب فاضل، عربی میں مولوی فاضل کی اسناد حاصل کیں۔ بعد ازاں لاہور سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا اور ہندی و سنسکرت پر بھی عبور حاصل کیا۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشی ضروریات کے پیشِ نظر انہوں نے مختلف چھوٹی موٹی ملازمتیں بھی کیں۔ اسی دوران ان کا رجحان صحافت کی طرف ہوا اور انہوں نے اخبارات میں مترجم اور مزاحیہ کالم نگار کے طور پر کام شروع کیا۔ سن 1938ء میں وہ نشری دنیا سے وابستہ ہوئے، جس سے ان کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
مرزا ظفر الحسن کے بقول، انہوں نے نہ تو سیکھنے میں کوتاہی کی اور نہ ہی قدرت نے انہیں صلاحیتوں سے محروم رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب مقرر، اداکار اور فنکار کے طور پر سامنے آئے۔ انہیں موسیقی سے بھی گہرا شغف تھا، جو ان کے ریڈیائی ڈراموں میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
وہ شاعری بھی کرتے تھے، تاہم مشاعروں سے دور رہتے۔ ابتدا میں انہوں نے حیدر طباطبائی سے اصلاحِ سخن لی، مگر ان کے انتقال کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ حیدرآباد دکن ریڈیو میں میر حسن سے ان کی ملاقات ہوئی، جو بعد میں رشتہ داری میں تبدیل ہوئی۔ میر حسن کی چھوٹی بہن سرور فاطمہ سے 1938ء میں ان کی شادی ہوئی۔
سید شجاع احمد قائد نے نشریات کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے تقریباً ڈیڑھ ہزار نشری فیچرز اور ڈراموں میں بطور ہیرو کام کیا، ایک ہزار سے زائد ڈراموں کی ہدایت کاری کی، اور پانچ سو سے زیادہ ڈرامے اور خاکے تحریر کیے۔ ان کا پہلا ڈرامہ “اونچی دکان” 1938ء میں ریڈیو حیدرآباد سے نشر ہوا۔ بعد میں انہوں نے بچوں کے لیے خصوصی ڈرامے لکھے، جس کی بنا پر انہیں “قائدِ نسلِ نو” کے لقب سے یاد کیا گیا۔
سید شجاع احمد قائد اردو نشریات کی تاریخ کا ایک درخشاں نام ہیں، جن کی ہمہ جہت صلاحیتیں اور تخلیقی خدمات آج بھی یادگار سمجھی جاتی ہیں۔
وفات: 4 مئی 1968ء کو 49 برس کی عمر میں حیدرآباد میں دل کے عارضے کے باعث ان کا انتقال ہوا اور اسی شام میر مومن میں تدفین عمل میں آئی۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
