Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شوکت جمال کے اشعار

بولیں کہ کام کرنے کی خوگر نہیں ہوں میں

بیوی ہوں آپ کی کوئی شوہر نہیں ہوں میں

پی گئی تھی گھول کر آزادؔ کی آب حیات

تب کہیں گھر میں مرے تجھ سا پسر پیدا ہوا

ساقی کا اور شراب کا ہو ذکر بار بار

زاہد کو بھول کر نہ کبھی پارسا لکھیں

چاہتے تو تھے مرے اغیار تو پیدا نہ ہو

پھر بھی یہ ہمت ہے تیری تو اگر پیدا ہوا

کھانا کھلنے کا ہی اعلان اگر فرما دیں

ہم یہ سمجھیں گے کہ تقریر صدارت بخشی

ممکن نہیں غضب سے بچیں ہم جناب کے

بالشتیوں کو بھی نہ اگر سرو سا لکھیں

فیس بک ہی آج کل چوپال ہے

چوک پر ملتے کہاں ہیں چار دوست

Recitation

بولیے