Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sudarshan's Photo'

سدرشن

1896 - 1967 | ممبئی, انڈیا

پریم چند کے معاصر افسانہ نگار اور ابتدائی ہندوستانی سنیما کے ممتاز اسکرپٹ رائٹر

پریم چند کے معاصر افسانہ نگار اور ابتدائی ہندوستانی سنیما کے ممتاز اسکرپٹ رائٹر

سدرشن کا تعارف

تخلص : 'پنڈت سدرشن'

اصلی نام : بدری ناتھ شرما

پیدائش :سیالکوٹ, پنجاب

وفات : 16 Dec 1967 | ممبئی, مہاراشٹر

شناخت: نامور افسانہ نگار، ڈراما نگار، مترجم اور ابتدائی دورِ ہندوستانی سنیما کے ممتاز اسکرین رائٹر

پنڈت سدرشن برصغیر کے ان مایہ ناز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے منشی پریم چند کی ادبی روایت کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اسے ایک نئی جہت عطا کی۔

ان کا اصل نام پنڈت بدری ناتھ شرما تھا اور وہ 1896ء میں سیالکوٹ کے ایک متمول زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ادب میں بی اے کی ڈگری حاصل کی، جس نے ان کے مستقبل کی علمی بنیادیں استوار کیں۔

سدرشن نے اپنے قلمی سفر کا آغاز لاہور کے مشہور اردو جریدے ’ہزار داستاں‘ سے کیا۔ وہ منشی پریم چند کے ہم پلہ افسانہ نگار تسلیم کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کی تحریروں میں بھی وہی سادگی، معصومیت اور انسانیت کا درد چھپا تھا۔ ان کی پہلی کہانی ’ہار کی جیت‘ (1920ء) نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ کہانی ایک ایسے کسان کی اخلاقی جیت کی داستان ہے جو اپنے محبوب گھوڑے کو ایک ڈاکو سے بچانے کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔ ان کے افسانوں کا رخ شہر سے دیہات تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ متوسط طبقے کے جذبات کی نہایت مہارت سے ترجمانی کرتے ہیں۔

جہاں منشی پریم چند جیسے بڑے ادیب فلمی دنیا (سنیما) میں وہ اثر پیدا نہ کر سکے جس کی ان سے توقع تھی، وہیں پنڈت سدرشن نے اس میڈیم کو اپنی صلاحیتوں کے لیے بہترین میدان ثابت کیا۔ جب بولتی فلموں کا آغاز ہوا، تو وہ کلکتہ چلے گئے اور جلد ہی بڑے اسٹوڈیوز کی ضرورت بن گئے۔

ان کی پہلی فلم ’رامائن‘ تھی، جس میں پرتھوی راج کپور نے کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مشہور کمپنی ’نیو تھیٹرز‘ کے ساتھ مل کر شاہکار تخلیق کیے۔ 1935ء میں فلم ’دھوپ چھاؤں‘ کے لیے انہوں نے نہ صرف اسکرپٹ لکھی بلکہ 10 گیت بھی لکھے۔ ان کا گیت "تیری گٹھری میں لاگا چور، مسافر جاگ ذرا" آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ ممبئی منتقلی کے بعد انہوں نے سہراب مودی کی شہرہ آفاق فلم ’سکندر‘ کے مکالمے اور منظر نامہ لکھ کر تاریخ رقم کر دی۔

پنڈت سدرشن نے ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں گراں قدر سرمایہ چھوڑا:

افسانوی مجموعے: کنجِ عافیت، قدرت کے کھیل، پارس، چٹکیاں، سدا بہار اور تہذیب کے تازیانے وغیرہ۔

ڈرامے: عورت کی محبت، مہا بھارت، محبت کا انتقام اور قوم پرست۔

فلمی تحریریں: پرتھوی ولبھ، پتھروں کا سوداگر، جلترنگ اور پھر ملیں گے۔

تراجم: دیانند پرکاش۔

سدرشن کی تحریریں اس قدر بااثر تھیں کہ مہاتما گاندھی بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنی جڑوں کی طرف لوٹے اور کتابوں و رسائل کے لیے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ ان کی تحریروں میں دیہی موضوعات کی جگہ شہری مسائل نے لے لی تھی۔

وفات: 16 دسمبر 1967 کو ممبئی کے ہرکشن داس اسپتال میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے