- کتاب فہرست 177710
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5849-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سدرشن کا تعارف
شناخت: نامور افسانہ نگار، ڈراما نگار، مترجم اور ابتدائی دورِ ہندوستانی سنیما کے ممتاز اسکرین رائٹر
پنڈت سدرشن برصغیر کے ان مایہ ناز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے منشی پریم چند کی ادبی روایت کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اسے ایک نئی جہت عطا کی۔
ان کا اصل نام پنڈت بدری ناتھ شرما تھا اور وہ 1896ء میں سیالکوٹ کے ایک متمول زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ادب میں بی اے کی ڈگری حاصل کی، جس نے ان کے مستقبل کی علمی بنیادیں استوار کیں۔
سدرشن نے اپنے قلمی سفر کا آغاز لاہور کے مشہور اردو جریدے ’ہزار داستاں‘ سے کیا۔ وہ منشی پریم چند کے ہم پلہ افسانہ نگار تسلیم کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کی تحریروں میں بھی وہی سادگی، معصومیت اور انسانیت کا درد چھپا تھا۔ ان کی پہلی کہانی ’ہار کی جیت‘ (1920ء) نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ کہانی ایک ایسے کسان کی اخلاقی جیت کی داستان ہے جو اپنے محبوب گھوڑے کو ایک ڈاکو سے بچانے کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔ ان کے افسانوں کا رخ شہر سے دیہات تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ متوسط طبقے کے جذبات کی نہایت مہارت سے ترجمانی کرتے ہیں۔
جہاں منشی پریم چند جیسے بڑے ادیب فلمی دنیا (سنیما) میں وہ اثر پیدا نہ کر سکے جس کی ان سے توقع تھی، وہیں پنڈت سدرشن نے اس میڈیم کو اپنی صلاحیتوں کے لیے بہترین میدان ثابت کیا۔ جب بولتی فلموں کا آغاز ہوا، تو وہ کلکتہ چلے گئے اور جلد ہی بڑے اسٹوڈیوز کی ضرورت بن گئے۔
ان کی پہلی فلم ’رامائن‘ تھی، جس میں پرتھوی راج کپور نے کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مشہور کمپنی ’نیو تھیٹرز‘ کے ساتھ مل کر شاہکار تخلیق کیے۔ 1935ء میں فلم ’دھوپ چھاؤں‘ کے لیے انہوں نے نہ صرف اسکرپٹ لکھی بلکہ 10 گیت بھی لکھے۔ ان کا گیت "تیری گٹھری میں لاگا چور، مسافر جاگ ذرا" آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ ممبئی منتقلی کے بعد انہوں نے سہراب مودی کی شہرہ آفاق فلم ’سکندر‘ کے مکالمے اور منظر نامہ لکھ کر تاریخ رقم کر دی۔
پنڈت سدرشن نے ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں گراں قدر سرمایہ چھوڑا:
افسانوی مجموعے: کنجِ عافیت، قدرت کے کھیل، پارس، چٹکیاں، سدا بہار اور تہذیب کے تازیانے وغیرہ۔
ڈرامے: عورت کی محبت، مہا بھارت، محبت کا انتقام اور قوم پرست۔
فلمی تحریریں: پرتھوی ولبھ، پتھروں کا سوداگر، جلترنگ اور پھر ملیں گے۔
تراجم: دیانند پرکاش۔
سدرشن کی تحریریں اس قدر بااثر تھیں کہ مہاتما گاندھی بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنی جڑوں کی طرف لوٹے اور کتابوں و رسائل کے لیے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ ان کی تحریروں میں دیہی موضوعات کی جگہ شہری مسائل نے لے لی تھی۔
وفات: 16 دسمبر 1967 کو ممبئی کے ہرکشن داس اسپتال میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
