- کتاب فہرست 180318
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1678 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4761 تحقیق و تنقید6488افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4196خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سدرشن کا تعارف
شناخت: نامور افسانہ نگار، ڈراما نگار، مترجم اور ابتدائی دورِ ہندوستانی سنیما کے ممتاز اسکرین رائٹر
پنڈت سدرشن برصغیر کے ان مایہ ناز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے منشی پریم چند کی ادبی روایت کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اسے ایک نئی جہت عطا کی۔
ان کا اصل نام پنڈت بدری ناتھ شرما تھا اور وہ 1896ء میں سیالکوٹ کے ایک متمول زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ادب میں بی اے کی ڈگری حاصل کی، جس نے ان کے مستقبل کی علمی بنیادیں استوار کیں۔
سدرشن نے اپنے قلمی سفر کا آغاز لاہور کے مشہور اردو جریدے ’ہزار داستاں‘ سے کیا۔ وہ منشی پریم چند کے ہم پلہ افسانہ نگار تسلیم کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کی تحریروں میں بھی وہی سادگی، معصومیت اور انسانیت کا درد چھپا تھا۔ ان کی پہلی کہانی ’ہار کی جیت‘ (1920ء) نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ کہانی ایک ایسے کسان کی اخلاقی جیت کی داستان ہے جو اپنے محبوب گھوڑے کو ایک ڈاکو سے بچانے کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔ ان کے افسانوں کا رخ شہر سے دیہات تک پھیلا ہوا ہے، جہاں وہ متوسط طبقے کے جذبات کی نہایت مہارت سے ترجمانی کرتے ہیں۔
جہاں منشی پریم چند جیسے بڑے ادیب فلمی دنیا (سنیما) میں وہ اثر پیدا نہ کر سکے جس کی ان سے توقع تھی، وہیں پنڈت سدرشن نے اس میڈیم کو اپنی صلاحیتوں کے لیے بہترین میدان ثابت کیا۔ جب بولتی فلموں کا آغاز ہوا، تو وہ کلکتہ چلے گئے اور جلد ہی بڑے اسٹوڈیوز کی ضرورت بن گئے۔
ان کی پہلی فلم ’رامائن‘ تھی، جس میں پرتھوی راج کپور نے کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مشہور کمپنی ’نیو تھیٹرز‘ کے ساتھ مل کر شاہکار تخلیق کیے۔ 1935ء میں فلم ’دھوپ چھاؤں‘ کے لیے انہوں نے نہ صرف اسکرپٹ لکھی بلکہ 10 گیت بھی لکھے۔ ان کا گیت "تیری گٹھری میں لاگا چور، مسافر جاگ ذرا" آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ ممبئی منتقلی کے بعد انہوں نے سہراب مودی کی شہرہ آفاق فلم ’سکندر‘ کے مکالمے اور منظر نامہ لکھ کر تاریخ رقم کر دی۔
پنڈت سدرشن نے ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں گراں قدر سرمایہ چھوڑا:
افسانوی مجموعے: کنجِ عافیت، قدرت کے کھیل، پارس، چٹکیاں، سدا بہار اور تہذیب کے تازیانے وغیرہ۔
ڈرامے: عورت کی محبت، مہا بھارت، محبت کا انتقام اور قوم پرست۔
فلمی تحریریں: پرتھوی ولبھ، پتھروں کا سوداگر، جلترنگ اور پھر ملیں گے۔
تراجم: دیانند پرکاش۔
سدرشن کی تحریریں اس قدر بااثر تھیں کہ مہاتما گاندھی بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنی جڑوں کی طرف لوٹے اور کتابوں و رسائل کے لیے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ ان کی تحریروں میں دیہی موضوعات کی جگہ شہری مسائل نے لے لی تھی۔
وفات: 16 دسمبر 1967 کو ممبئی کے ہرکشن داس اسپتال میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
