Suhail Azeemabadi's Photo'

سہیل عظیم آبادی

1911 | پٹنہ, ہندوستان

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

ترقی پسند افسانہ نگار، شاعر اور ڈرامہ نویس۔

اشعار 19

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن

جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

  • شیئر کیجیے

تمناؤں کی دنیا دل میں ہم آباد کرتے ہیں

غضب ہے اپنے ہاتھوں زندگی برباد کرتے ہیں

  • شیئر کیجیے

وہ راتیں کیف میں ڈوبی وہ تیری پیار کی باتیں

نکل پڑتے ہیں آنسو جب کبھی ہم یاد کرتے ہیں

  • شیئر کیجیے

افسانہ 1

 

ای- کتاب 8

الاؤ

 

1942

بے جڑ کے پودے

 

1972

بے جڑ کے پودے

 

1984

چار چہرے

 

1977

ہندوستانی ادب کے معمار: سہیل عظیم آبادی

 

1992

سہیل عظیم آبادی اور ان کے افسانے

 

1982

آج کل،نئی دہلی

شمارہ نمبر-004: سہیل عظیم آبادی نمبر: نومبر

1981

زبان و ادب، پٹنہ

سہیل عظیم آبادی نمبر: شمارہ نمبر۔ 001،002،003

1981

 

تصویری شاعری 1

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

 

مصنفین کے مزید "پٹنہ"

  • صدیق عالم صدیق عالم
  • حیدر بیابانی حیدر بیابانی
  • صادقہ نواب سحر صادقہ نواب سحر
  • معین الدین جینابڑے معین الدین جینابڑے
  • محمد ہاشم خان محمد ہاشم خان
  • عشرت ناہید عشرت ناہید
  • بانو سرتاج بانو سرتاج
  • ناصرہ شرما ناصرہ شرما
  • انور قمر انور قمر
  • رخشندہ روحی مہدی رخشندہ روحی مہدی