- کتاب فہرست 181556
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4297 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سید احتشام حسین کے اقوال
غزل اپنے مزاج کے اعتبار سے اونچے مہذب طبقہ کی چیز ہے۔ اس میں عام انسان نہیں آتے۔
سب سے زیادہ جو بت انسان کی راہ میں حائل ہوتا ہے وہ آباء و اجداد کی تقلید اور رسم و رواج کی پیروی کا بت ہے جس نے اسے توڑ لیا اس کے لئے آگے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔
اگر اطاعت پر ضبط نفس کا احتساب جاری نہ رہے تو خودی کا متلاشی خطرناک راستوں پر جا سکتا ہے۔
ادب کی سماجی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک ہم ادیب کو باشعور نہ مانیں۔
زندگی کو نئے تجربوں کی راہ پر ڈالنا، بندھے ٹکے اصولوں سے انحراف کرکے زندگی میں نئی قدروں کی جستجو کرنا بت شکنی ہے۔
سماجی کشمکش سے پیدا ہونے والے ادب کا جتنا ذخیرہ اردو میں فراہم ہو گیا ہے اتنا شاید ہندوستان کی کسی دوسری زبان میں نہیں ہے۔
شاید یہ بحث کبھی ختم نہ ہوگی کہ نقاد کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ بحث ختم ہو یا نہ ہو، دنیا میں ادیب بھی ہیں اور نقاد بھی۔
شاعر اور ادیب نقاد کی انگلی پکڑ کر نہیں چل سکتا اور نہ نقاد کا یہ کام ہے کہ وہ ادیب کی آزادی میں رکاوٹ ڈالے۔
زبان پہلے پیدا ہوئی اور رسمِ خط بعد میں۔ میں اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ زبان اور رسمِ خط میں کوئی باطنی تعلق نہیں ہے بلکہ رسمی ہے اور اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو زبان اور رسمِ خط کے متعلق جو بحث جاری ہے وہ محدود ہو سکتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
