- کتاب فہرست 180356
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1361 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب971 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6484افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سید احتشام حسین کے اقوال
غزل اپنے مزاج کے اعتبار سے اونچے مہذب طبقہ کی چیز ہے۔ اس میں عام انسان نہیں آتے۔
سب سے زیادہ جو بت انسان کی راہ میں حائل ہوتا ہے وہ آباء و اجداد کی تقلید اور رسم و رواج کی پیروی کا بت ہے جس نے اسے توڑ لیا اس کے لئے آگے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔
اگر اطاعت پر ضبط نفس کا احتساب جاری نہ رہے تو خودی کا متلاشی خطرناک راستوں پر جا سکتا ہے۔
ادب کی سماجی اہمیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک ہم ادیب کو باشعور نہ مانیں۔
زندگی کو نئے تجربوں کی راہ پر ڈالنا، بندھے ٹکے اصولوں سے انحراف کرکے زندگی میں نئی قدروں کی جستجو کرنا بت شکنی ہے۔
سماجی کشمکش سے پیدا ہونے والے ادب کا جتنا ذخیرہ اردو میں فراہم ہو گیا ہے اتنا شاید ہندوستان کی کسی دوسری زبان میں نہیں ہے۔
شاید یہ بحث کبھی ختم نہ ہوگی کہ نقاد کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ بحث ختم ہو یا نہ ہو، دنیا میں ادیب بھی ہیں اور نقاد بھی۔
شاعر اور ادیب نقاد کی انگلی پکڑ کر نہیں چل سکتا اور نہ نقاد کا یہ کام ہے کہ وہ ادیب کی آزادی میں رکاوٹ ڈالے۔
زبان پہلے پیدا ہوئی اور رسمِ خط بعد میں۔ میں اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ زبان اور رسمِ خط میں کوئی باطنی تعلق نہیں ہے بلکہ رسمی ہے اور اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو زبان اور رسمِ خط کے متعلق جو بحث جاری ہے وہ محدود ہو سکتی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
