- کتاب فہرست 189006
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2093
ڈرامہ1034 تعلیم392 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1804 صحت110 تاریخ3633طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1967 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5048 سیاسی378 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب563 ترجمہ4620خواتین کی تحریریں6299-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1687
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5420
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ71
- واسوخت29
طارق مرزا کے مضامین
اقبالؒ کے فکری مآخذ
شاعرِمشرق حضرت علامہ اقبالؒ کے فکری مآخذ کے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ ان کی حیات میں شروع ہو گیا تھا جو ابھی تک تھما نہیں ہے۔خصوصاً ان کے شہرہ آفاق اور معراجِ انسانیت فلسفہِ خودی کے متعلق مختلف نقّادوں نے مختلف یورپی علمی شخصیات کے نام لیے ہیں۔زیادہ
اقبالؒ اوراحیائے ملت اسلامی
حکیم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ کو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا گہرا ادراک و احساس تھا اور اس عظمت کے کھو جانے کا شدید ملال تھا ۔ مگر وہ اس پر ماتم نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوامقام یاد کراتے ہیں اورانہیں یہ مقام پھر سے حاصل کرنے کا ولولہ
اقبال ایک آفاقی شاعر
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال ؒ بیسویں صدی کی ایک نابغہ روز گار شخصیت تھی۔ وہ ایک معروف شاعر، مفکر، فلسفی،مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما تھے۔اگرچہ شاعری ان کی وجہ شہرت بنی تاہم انہوں نے اپنے فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات سے برصغیر
آج عہدِ یُوسفی تمام ہوا
ہم عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں۔یوسفی صاحب کے بارے میں یہ بات ابنِ انشا نے آج سے تقریباََ نصف صدی قبل کہی تھی۔ہمیں فخر ہے کہ ہم اس عہد کا حصہ ہیں۔ اگرچہ آج یہ عہد تمام ہوا۔مگر اس عہد ساز شخصیت کے قلم سے نکلے رنگ ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔ اُردو ادب کا یہ انتہائی
وہ آئیں گھر میں ہمارے
آسٹریلیا میں کوئی تقریب منعقد کرنی ہو تو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں مدعوئین کا انتخاب اور مہمانوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا سب سے مشکل کام ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر تقریب کا اپنا مزاج ہوتاہے۔ ہر شخص ہر تقریب کے لیے موزوں نہیں ہوتا
ادبی گستاخیاں
دُنیا کے دیگر ممالک کی طرح آسٹریلیا میں بھی اُردو زبان و ادب کے حوالے سے تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں ۔ ان تقریبات میں زیادہ تر مشاعرے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اُردو بولنے والوں نے اور کسی حوالے سے ترقی کی ہو یا نہیں ، کم از کم شاعری کے حوالے سے خود کفیل ہو
آہ! پروفیسر رئیس علوی بھی چل بسے
سڈنی آسٹریلیا کا اس لحاظ سے منفرد شہر ہے کہ یہاں تین دہائیوں سے اُردو شعر و ادب کا گلستاں آباد ہے۔مقامی ادباء اور شعرا ء کا ایک گلدستہ سجا ہے جن کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ادبی محافل منعقد ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں علاوہ پاکستان اورہندوستان سے بھی اہم
مرزا غالب کا سفرِ کلکتہ
برصغیر کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ اپنے زمانے کے مروّجہ علوم پر اُنھیں مکمل عبور حاصل تھا ۔تاہم ان کی وجہ شہرت شاعری تھی جو دو صدیاں گزرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ شاعری کے لیے اُنھوں نے اُردو اور فارسی دونوں کو ذریعہ
اقبال کا تصوّر قرآن
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے تم مسلمان ہو یہ اندازِ مسلمانی ہے حیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہے تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ رُوحانی ہے وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر یہ اشعار اس شاعر کے ہیں جس نے اپنی شاعری
قیامِ یورپ اور علامہ اقبالؒ کی ماہیت قلبی
علامہ اقبال ۱۹۰۵ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ تشریف لے گئے۔ اگرچہ ہندوستان سے ایم اے پاس کر کے گئے تھے پھر بھی یورپی درس گاہوں کی ضرورت کے مطابق انھوں نے ٹرنٹی کالج سے ۱۹۰۶ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۰۸ میں انھوں نے مڈل ٹمپل( Middle Temple) سے
آسٹریلیا کا دیہی طرزِ حیات
میں جب بھی شہر کی گہما گہمی سے اُکتاتا ہوں تو آسٹریلیا کے کسی دیہی علاقے کا رُخ کرتا ہوں ۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبات بلکہ گاؤں میں بھی ہوٹل دستیاب ہیں ۔ جدید سہولتوں کے باوجود گاؤں کی زندگی اب بھی زیادہ نہیں بدلی۔ بلکہ صدیوں پرانی طرز پر قائم ہے ۔ وسیع
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایّام تو
میں استنبول میں سلطنتِ عثمانیہ کے سب سے آخری حکمران عبدالحمید ثانی کے محل دولمہ باغچہ(Dolmabahçe Palace) کی صدر گزر گاہ جو بذاتِ خودفن تعمیر کا نادرشاہکار ہے،سے گزر کر اندر داخل ہوا تو رنگوں بھرا باغیچہ دیکھ کر جیسے میری آنکھیں چندھیا سی گئیں۔مختلف
خوشبوکی شاعرہ ، پروین شاکر کی یادیں
تیس دسمبر کی شام جب نیا سال صرف ایک دن کے فاصلے پر تھا اور پوری دُنیا کی توجہ سڈنی میں منعقد ہونے والی شاندار آتش بازی کی طرف تھی، ہم اسی سنہرے ساحلوں والے شہر سڈنی میں ایک خوبصورت ادبی محفل سجائے بیٹھے تھے۔ اس تقریب کا مہمان ِخاص اُردو کی معروف ترین
علامہ اقبال کا نظریہ خودی
حکیم الامّت حضرت علامہ اقبال ؒکے فکر و فلسفے کا مرکزی نکتہ اور جوہر ِکلام اُن کانظریہِ خودی ہے۔ ان کی فکر اور فلسفے کے دیگر مباحث اس نظریے کے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا فلسفہ حیات بھی یہی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کی تشریح اور توضیح آسان نہیں ہے۔ جس
علامہ اقبالؒ کی مخالفت کی وجوہات
شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبالؒ اپنی حیات میں ہی جہاں برصغیر کی عوام کی آنکھوں کا تارا بنے رہے اور پوری دنیا میں نام اور شہرت کمائی وہاں دنیا کے دیگر عظیم لوگوں کی طرح ان کی بھی مخالفت ہوئی اور الزام تراشیوں کاسامنا کرنا پڑا بلکہ کفر کا فتویٰ بھی سہنا پڑا۔مخالفت
ہم بھی ٹی وی کے مہمان ہوئے
کراچی کے ایک نجی ٹی وی کے ادبی پروگرام کے میزبان کی جانب سے انٹرویو کی دعوت موصول ہوئی تومیں نے معذرت کر لی ۔ تاہم دوست کا اصرار جاری رہا حتٰی کہ مجھے مانتے ہی بنی۔ دعوت قبول کی تو اسلام آباد سے کراچی کے سفر کی تیاری شروع کر دی ۔جہاز کی سیٹ کے ساتھ ساتھ
سحر خیزی کے فوائد
چند روز قبل ایک عزیز کی بیرون ملک سے آمد متوقع تھی تو انھیں سڈنی ائرپورٹ سے لینے کے لیے میں علی الصبح پانچ بجے گھر سے روانہ ہوا۔ ابھی سپیدہ سحر نمودار نہیں ہوا تھا لیکن سڈنی کی سڑکیں ایسے مصروف تھیں جیسے دوپہر کے بارہ بجے ہوں۔ یہ میرے لیے اچنبھے کی بات
میں فکراقبال سے کیسے رُوشنا س ہوا
کلام ِ قبال سے میرے ربط و ضبط کا آغاز لڑکپن سے ہو گیا تھا ۔ بلکہ شعرو سخن کی جانب میری رغبت میں کلامِ اقبال کا اہم کردار تھا ۔ ابتدائی جماعتوں میں دُعا، لب پہ آتی ہے دُعا، ایک گائے اور بکری، ہمدردی اور پہاڑ اور گلہری، جیسی نظموں سے یہ شوق پروان چڑھا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2093
-
