77
Favorite

باعتبار

بڑھتے چلے گئے جو وہ منزل کو پا گئے

میں پتھروں سے پاؤں بچانے میں رہ گیا

ساتھی مرے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے

میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا

یہ میرے ساتھی ہیں پیارے ساتھی مگر انہیں بھی نہیں گوارا

میں اپنی وحشت کے مقبرے سے نئی تمنا کے خواب دیکھوں

یہ تو سچ ہے کہ وہ ستم گر ہے

در پر آیا ہے تو امان میں رکھ

اس محفل میں میں بھی کیا بیباک ہوا

عیب و ہنر کا سارا پردہ چاک ہوا

تذکرہ ہو ترا زمانے میں

ایسا پہلو کوئی بیان میں رکھ

ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیا

میں رسم زندگی جو نبھانے میں رہ گیا

یہاں ہم نے کسی سے دل لگایا ہی نہیں منظرؔ

کہ اس دنیا سے آخر ایک دن بے زار ہونا تھا

مرحلے اور آنے والے ہیں

تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ

سنا یہ تھا بہت آسودہ ہیں ساحل کے باشندے

مگر ٹوٹی ہوئی کشتی میں دریا پار ہونا تھا