Umair Manzar's Photo'

عمیر منظر

1974 | لکھنؤ, ہندوستان

ساتھی مرے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے

میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا

بڑھتے چلے گئے جو وہ منزل کو پا گئے

میں پتھروں سے پاؤں بچانے میں رہ گیا

اس محفل میں میں بھی کیا بیباک ہوا

عیب و ہنر کا سارا پردہ چاک ہوا

یہ تو سچ ہے کہ وہ ستم گر ہے

در پر آیا ہے تو امان میں رکھ

ہر بار ہی میں جان سے جانے میں رہ گیا

میں رسم زندگی جو نبھانے میں رہ گیا

تذکرہ ہو ترا زمانے میں

ایسا پہلو کوئی بیان میں رکھ

یہاں ہم نے کسی سے دل لگایا ہی نہیں منظرؔ

کہ اس دنیا سے آخر ایک دن بے زار ہونا تھا

مرحلے اور آنے والے ہیں

تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ

یہ میرے ساتھی ہیں پیارے ساتھی مگر انہیں بھی نہیں گوارا

میں اپنی وحشت کے مقبرے سے نئی تمنا کے خواب دیکھوں

سنا یہ تھا بہت آسودہ ہیں ساحل کے باشندے

مگر ٹوٹی ہوئی کشتی میں دریا پار ہونا تھا