اور بادشاہ سلامت پھٹ گئے

نامعلوم

اور بادشاہ سلامت پھٹ گئے

نامعلوم

MORE BYنامعلوم

    الٹانگر کے بادشاہ سلامت جب اینڈتے اکڑتے دربار میں داخل ہوئے تو نقیب نے کڑک کر کہا۔۔۔’’باادب، با ملاحظہ ہوشیار، شہنشاہ معظم۔ اعلی حضرت فرماں روائے الٹانگر تشریف لاتے۔۔۔‘‘ اور پکارنے والا ابھی پوری بات بھی نہ کہنے پایا تھا کہ بادشاہ سلامت دھڑام سے وزیر اعظم کے قدموں میں گرپڑے۔ وزیر اعظم نے چار پانچ سپاہیوں کی مدد سے بادشاہ کو بڑی دقت سے اٹھایا۔ آپ ہانپتے ہوئے اٹھے اور ڈانٹ کر بولے۔ ’’یہ کون بدتمیز ہمارے سامنے گر پڑا‘‘۔ وزیر اعظم سرکھجا کر بولے۔ ’’میرے خیال میں تو حضور خودگر پڑے تھے۔ ارے معاف‘‘

    ’’کون ہم؟ یعنی مابدولت؟ چیخ کر بولے۔ ٹھہرجا!تجھے اس گستاخی کا ہم ابھی مزا چکھاتے ہیں۔ کوئی ہے؟ دو سپاہیوں نے آکر سلیوٹ لگایا۔ لے جاؤ اسے۔ بادشاہ سلامت نے سپاہیوں کو حکم دیا۔ ’’اور اس کی ناک میں بھس بھردو۔‘‘ سپاہیوں نے کچھ دیر کی تو آپ نے اچھل کر فرمایا’’میں کہتا ہوں لے جاؤ‘‘۔ اور پھر دھڑام سے نیچے گر پڑے۔

    اصل میں بات یہ تھی کہ الٹانگر کے بادشاہ سلامت اتنے موٹے تھے کہ بس بہت ہی موٹے تھے۔ ایک تو بے تحاشاموٹاپا، اور دوسرے آپ کی داہنی ڈانگ بائیں ٹانگ سے کچھ چھوٹی تھی۔ اس لئے بادشاہ سلامت کو ذرا سی بھی ٹھوکر لگتی تو آپ بھد سے نیچے گر پڑتے اور فٹ بال کی طرح زمین پر لڑھکتے پھرتے۔ اس وقت آپ کے سامنے کسی کا آجانا غضب ہی ہوجاتا۔ گرنے کا سارا غصہ اس پر اتارتے اور جب تک اس کی ناک میں بھس نہ بھروادیتے تب تک چین نہ لیتے۔ چنانچہ کوئی درباری ایسا نہ تھا جس کی ناک میں بھس نہ بھراگیا ہو۔

    جسم موٹا ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ سلامت کی عقل بھی بہت موٹی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ بادشاہ سلامت کسی کرسی پر بیٹھتے اور وہ آپ کے بوجھ سے چرچرا کر ٹوٹ جاتی تو بادشاہ سلامت نہ صرف کرسی بنانے والے کی بلکہ اس کے پورے خاندان کی ناک میں بھس بھروا دیتے۔ اس لئے ملکہ نے محل کی ساری کرسیاں اور مسہریاں لوہے کی بنوادی تھیں۔ لیکن اس پر بھی کبھی نہ کبھی ایک آدھ کرسی یا مسہری بادشاہ سلامت کے بوجھ سے ٹوٹ ہی جاتی۔ یہ دیکھ کر بعض آدمی تو سوچنے لگتے کہ حضور بادشاہ سلامت موٹے زیادہ ہیں یا بھاری۔

    بادشاہ سلامت کے بے تحاشا مٹاپے اور اوندھی عقل سے ویسے تو ساری رعایا ہی پریشان تھی۔ مگر وزیر اعظم اور ملکہ کی تو جان آفت میں تھی اور جب سے بادشاہ سلامت نے وزیر اعظم صاحب کی ناک میں بھس بھروایا تھا تب سے تو وہ اور بھی ڈرنے لگے تھے اور ہر وقت ایسی تجویزیں سوچتے رہتے کہ کسی طرح بادشاہ سلامت کا موٹاپا ختم ہو۔ تاکہ ان کی اور رعایا کی جان اس مصیبت سے چھوٹے۔

    ایک دن ملکہ عالیہ بادشاہ سلامت کے لئے چائے بنا رہی تھیں کہ وزیر اعظم گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور کراہتے ہوئے بولے۔ ’’ارے ملکہ عالیہ! آپ نے کچھ اور بھی سنا؟‘‘

    ’’کیا؟ ‘‘ ملکہ ہڑ بڑا کر اس زور سے اٹھیں کہ چائے کی کیتلی چولہے پر سے گرتے گرتے بچی۔

    ’’کیا بتاؤں حضور!۔۔۔وزیر اعظم پیٹھ کھجا کر بولے: ’’حضور بادشاہ سلامت نے تو لوگوں کی زندگیاں حرام کردی ہیں‘‘۔

    ’’کچھ کہو گے بھی کہ ۔۔۔ ‘‘ ملکہ خفا ہونے لگیں۔

    ’’کہوں کیا حضور؟‘‘ وزیر اعظم نے منہ بسور کر کہا۔ ’’کسی کم بخت نے حضور سے یہ کہہ دیا کہ شہر کے تمام بچے آپ کو ’’موٹاشاہ‘‘ کہتے ہیں بس آپ نے فوج کو حکم دے دیاہے کہ وہ سارے شہر کے بچوں کو پکڑ کر ان کی ناک میں بھی بھس بھردے‘‘۔

    ’’یہ تو بڑی بری بات ہوئی‘‘۔ ملکہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔ ’’اس سے تو رعایا میں بے چینی پھیل جائے گی‘‘۔

    ’’جی ہاں! اور کچھ عجیب نہیں کہ لوگ حکومت کے خلاف بغاوت کردیں‘‘۔ وزیر اعظم صاحب بولے۔

    ’’بغاوت۔۔۔‘‘ وزیر اعظم نے جوش میں آکر میز پر مکا لگایا اور جب چوٹ لگی تو ہاتھ سہلانے لگے۔

    ’’تو پھر کیا کیا جائے؟‘‘ ملکہ نے پوچھا۔

    وزیر اعظم سوچ کر بولے۔ ’’میرے خیال میں تو بادشاہ سلامت کے دبلا ہونے کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ آپ حضور کو روٹی ذرا کم دیا کریں‘‘۔

    ملکہ تن فن کر بولیں: ’’کیا تم یہ چاہتے ہو کہ بادشاہ سلامت میری بھی ناک میں بھس بھروادیں‘‘۔

    ’’ارے نہیں ملکہ عالیہ!‘‘ وزیراعظم سٹپٹا کر بولے۔ ’’دراصل پھر ہمیں کوئی اور ہی تدبیر سوچنی پڑے گی‘‘۔

    اتنے میں ایک نوکر بھاگا ہوا آیا اور بولا۔’’حضور بادشاہ سلامت فرما رہے ہیں چائے ابھی تک نہیں آئی‘‘۔

    ملکہ جلدی سے بولیں۔ ’’کہنا شکر ختم ہوگئی تھی۔ بازار سے منگائی ہے۔ ابھی آتی ہے‘‘۔ نوکر چلا گیا تو ملکہ وزیر اعظم سے بولیں۔ ’’الو کی طرح میرا منہ کیا تک رہے ہو۔ کچھ بولونا؟‘‘

    وزیر اعظم نے پہلے کچھ دیر سوچا اور پھر ایک دم خوشی کا نعرہ مار کر بولے۔ ’’آہا! ملکہ عالیہ ایک بڑی اچھی ترکیب دماغ میں آئی ہے۔ شہر سے کچھ دور جو پہاڑ ہے، اس میں ایک بڑا زبردست جادوگر رہتا ہے۔

    اگر اس سے مدد طلب کی جائے تو شاید وہ کوئی ایسی دوا یا منتر دے، جس سے بادشاہ سلامت کا موٹاپا کم ہوسکے‘‘۔

    ملکہ خوشی سے بولیں: ’’بس بس بالکل ٹھیک۔ تم آج ہی اور ابھی اس کے پاس جاؤ‘‘۔

    وزیر نے جھک کر سلام کیا اور چلے آئے۔

    اب یہ بھی کچھ اتفاق تھا کہ بادشاہ سلامت جتنے موٹے تھے۔ وزیر اعظم صاحب اتنے ہی دبلے پتلے اور دھان پان تھے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر میرا بھی دبلا پن دور ہوجائے اور میں ذرا سا موٹا ہوجاؤں تو کیا ہی اچھی بات ہو۔ یہ سوچ کر خوشی سے اچھل پڑے اور جادوگر کو سارا حال کہہ سنایا۔

    ’’اچھی بات ہے‘‘۔ جادوگر اپنی خوف ناک آنکھیں گھما کر بولا۔ یہ لو موٹا ہونے کی دوا۔ اگر چھپکلی بھی کھائے تو پھول کر ہاتھی ہوجائے۔ اور یہ لو دبلاہونے کی دوا۔ اگر اسے ہاتھی بھی کھائے تو پسو بن جائے۔‘‘

    وزیر اعظم خوش خوش دونوں دوائیں لے کر چلے آئے۔ مگر آکر یہ بھول گئے کہ موٹا ہونے کی دوا کون سی ہے اور دبلا ہونے کی کون سی۔ بھولے سے بادشاہ سلامت والی دوا تو خود چڑھا گئے اور اپنی والی دوا بادشاہ سلامت کو دودھ میں ملا کر پلادی اورنتیجہ کا انتظار کرنے لگے۔

    تھوڑی دیر بعد انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ سلامت کا پیٹ پھول رہا ہے۔ گھبرا کر بولے ’’ارے حضور! آپ کا پیٹ!‘‘

    بادشاہ سلامت جھلا کر بولے۔ ’’کم بخت میرا پیٹ دیکھ رہا ہے۔ تو اپنے آپ کو تو دیکھ ’’وزیر اعظم صاحب نے گھبرا کر اپنے اوپر نظر ڈالی۔ تو یہ دیکھ کر ان کی روح فنا ہوگئی کہ وہ اور دبلے پتلے ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اب انہیں اپنی غلطی معلوم ہوئی۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت تو پھول کر غبارہ ہوگئے اور وزیر اعظم سوکھ کر ہڈیوں کا پنجر۔

    اور پھر اتنے زور کا دھماکا ہوا کہ سارا شہر ہل گیا۔ تمام فوج، امرا اور لوگ باگ دوڑ پڑے۔ آکر کیا دیکھتے ہیں کہ بادشاہ سلامت تو پھٹے پڑے ہیں اور ان کے پاس ایک چیونٹی رینگ رہی ہے۔ یہ وزیر اعظم تھے جو گھٹتے گھٹتے چیونٹی کے برابر رہ گئے تھے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے