ہاتھی کے گلے میں ڈھولک

نامعلوم

ہاتھی کے گلے میں ڈھولک

نامعلوم

MORE BYنامعلوم

    ایک دفعہ مہاراجا رنجیت سنگھ نے کسی میراثی پرخوش ہو کر روپے اور خلعت کے ساتھ اسےایک ہاتھی بھی بخش دیا۔

    مہاراجا نے تو بڑی فیاضی دکھائی۔ مگر میراثی بہت گھبرایا کہ اسے روز دانہ چارہ کہاں سے کھلاؤں گا اور خدمت کے لیے نوکر کہاں سے لاؤں گا۔

    کچھ سوچنے کے بعد میراثی نے ایک ڈھولک ہاتھی کے گلے میں باندھ کر اسے کھلا چھوڑ دیا۔ہاتھی جس طرح ہر روز قلعے کی ڈیوڑھی پر حاضر ہوتا تھا۔ اب بھی سیدھا وہیں جا پہنچا۔

    لوگوں نے جو یہ نیا تماشا دیکھا کہ ہاتھی چھاج سے کان ہلاتا ہے اور ڈھولک خود بخود بجنے لگتی ہے تو اس کے اردگرد بھیڑ لگ گئی۔

    تھوڑی دیر میں یہ غل غپاڑہ سن کر مہاراجے نے بھی کھڑکی سے سر نکالا اور ہاتھی کو پہچانتے ہی میراثی کو بلا کر پوچھا۔ ’’تم نے یہ کیا سوانگ بنا رکھا ہے۔‘‘

    میراثی نے عرض کی۔ ’’مہاراج! حضور جانتے ہیں، ہم غریب اپنا پیٹ تو پال نہیں سکتے، بھلا ہاتھی کا پیٹ کہاں سے بھریں گے؟ اس لیے جو ہنر خود جانتے تھے وہی اسے بتا دیا ہے کہ ڈھولک بجاتا اور مانگتا کھاتا پھرے۔‘‘

    یہ سن کر مہاراج ہنس پڑے۔ ہاتھی کو فیل خانے بھجوا دیا اور میراثی کو خزانے سے اس کی قیمت دلوادی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے