کام چور

عصمت چغتائی

کام چور

عصمت چغتائی

MORE BYعصمت چغتائی

    ’’بیگم اب ہماری پنشن ہونے والی ہے، ذرا گھر کا خرچ کم کرو۔‘‘ ہمارے ابا میاں نے پنشن سے پہلے یہ مناسب سمجھا کہ ہماری اماں جان کو (جو ہمارے ابا میاں سے بھی زیادہ کھلے ہاتھ کی تھیں) اونچ نیچ سمجھا دیں۔

    ’’اے ہے میں زیادہ خرچ کرتی ہوں تو اپنے ہاتھ میں گھر کا انتظام لے لو۔‘‘ اما جان بگڑیں۔

    ’’یعنی کہ میں کماؤں بھی اور گھر کی دیکھ بھال بھی کروں؟ خوب! بہت خوب! پھر بیوی کا فائدہ کیا ہے؟ آخر تم کس مرض کی دوا ہو؟‘‘

    ’’بھئی، ہم تو پھوہڑ ہیں۔ تم کوئی سگھڑ بیاہ کر لے آتے۔‘‘ اماں نے طعنہ دیا۔

    ظاہر ہے، ابا میاں اس وقت تو کوئی سگھڑ بیوی بیاہ کر لا نہیں سکتے تھے، کیونکہ وہ اس وقت کلب سے ٹینس کھیل کر ہارے تھکے آئے تھے۔ وہ بحث نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے وہ بھی قائل ہو گئے۔ اس شور اور ہنگامے کو سن کر ہم لوگ بھی آس پاس جمع ہو گئے تھے۔ ایک دم بھیڑ سے اماں کا دم بوکھلا اٹھا اور وہ چاروں طرف تھپڑ چاٹے اور چپت بانٹنے لگیں۔ ’’غارت ہو کم بختو! کلیجے پر چڑھے چلے آتے ہیں۔‘‘

    ابا میاں کا غصہ وہ ہم لوگوں پر اتارنے لگیں۔ ہم لوگ اداس ہو کر ان سے ذرا دور ہٹ آئے اور دل میں دعائیں مانگنے لگے: ’’کاش! ابا میاں ہمارے لیے ایک فرسٹ کلاس سی اماں لے آئیں تاکہ آئے دن کے جھگڑے سے کچھ تو مہلت ملے اور سکھ کا سانس آئے۔‘‘ خیر، ابا میاں نئی اماں جان تو نہ لائے۔ لیکن ہماری پرانی اماں کو انہوں نے اس بات پر ضرور راضی کر لیا کہ وہ خرچ کم کرنے کی اسکیم پر غور کرنے کو تیار ہوں۔ اس سلسلے میں ابا نے تجویز پیش کی:

    ’’سب نوکر نکال دو، یہ دو باورچی کیوں ہیں؟‘‘

    ’’ہے ہے۔۔۔ اتنے آدمیوں کا کھانا ایک باورچی سے نہیں پکےگا۔ آپ ہی نے تو کہا تھا۔۔ اکیلے باورچی سے اتنے آدمیوں کا کھانا پکوانا جرم ہے۔۔۔ زبردستی دوسرا باورچی رکھوایا تھا۔‘‘

    ’’خیر، چھوڑو باورچی کو۔۔۔ یہ بتاؤ، یہ عورتیں کون کون سی بھرلی ہیں؟‘‘ ابا میاں نے پوچھا۔

    ’’اے ہے، نئی تو کوئی نہیں، وہی عورتیں ہیں، جو شروع سے تھیں۔‘‘ اماں جان نے وضاحت کی۔

    ’’آخر کون ہیں؟ اور یہ بچے کس کس کے بھر رکھے ہیں؟ نکالو ان کو، کہو، اپنے گھر جاکر کھیلیں۔‘‘

    ’’لو اور سنو! ارے یہ سب اپنے بچے ہیں۔‘‘

    ’’یہ سب؟‘‘ ابا میاں کانپ اٹھے۔

    ’’اے واہ! کیا نادان بنتے ہو!‘‘

    ’’یعنی تمہارا مطلب ہے بیگم کہ یہ۔۔۔ یہ سب کے سب ہمارے تمہارے یعنی کہ بالکل ہمارے بچے ہیں؟‘‘ ابا میاں حیران ہوتے ہوئے بولے۔

    ’’اے ہے توبہ ہے! آپ تو بات کو فوراً پکڑ لیتے ہیں۔۔۔ اور یہ تو اکبری کے بچے ہیں۔‘‘

    ’’تمہاری بھانجی!‘‘

    ’’ہوں! اور تمہاری بھتیجی!‘‘ اماں نے بتایا۔

    بڑی دیر کی حجت کے بعد یہ طے ہوا کہ سچ مچ نوکروں کو نکال دیا جائے۔ آخر یہ موٹے موٹے بچے کس کام کے ہیں۔۔۔ ہل کر پانی نہیں پیتے۔ انہیں اپنا کام خود کرنے کی عادت ہونی چاہئے۔ کام چور کہیں کے۔ ’’تم لوگ کوئی کام نہیں کرتے، اتنے سارے ہو اور سارا دن اودھم مچانے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔‘‘

    اور سچ مچ ہمیں خیال آیا کہ ہم آخرکار کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ ہل کر پانی پینے میں اپنا کیا خرچ ہوتا ہے۔ اس لئے ہم نے فوراً ہل ہل کر پانی پینا شروع کیا۔ ہلنے میں دھکے بھی لگ جاتے ہیں اور ہم کسی کے دبیل تو تھے نہیں کہ کوئی دھکا دے تو سہہ جائیں۔ لیجئے پانی کے مٹکوں کے پاس ہی گھمسان کا رن پڑ گیا۔ صراحیاں ادھر کو لڑھکیں، مٹکے ادھر گئے، کپڑے شرابور سوالگ۔ ’’یہ لیجئے، کرالیں کام۔ یہ بھلا کام کریں گے، گدھے کہیں کے۔ دونوں صراحیاں توڑدیں۔‘‘ اماں نے فیصلہ کیا۔

    ’’کریں گے کیسے نہیں، ان کے تو باپ بھی کام کریں گے۔ دیکھو جی! جو کام نہیں کرےگا، اسے رات کا کھانا ہرگز نہیں ملے گا، سمجھے!‘‘

    یہ لیجئے، بالکل شاہی فرمان جاری ہو رہے ہیں۔

    ’’ہم کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کام بتایا جائے۔‘‘ ہم نے دہائی دی۔

    ’’بہت سے کام ہیں، جو تم کر سکتے ہو۔ مثلاً یہ دری کو دیکھو کتنی میلی ہو رہی ہے۔ آنگن میں جاکر دیکھو کتنا کوڑا پڑا ہے۔ صحن میں پیڑ ہیں ان کو پانی دینا ہے اور ہاں بھئی، یاد رہے! مفت تو یہ کام کروائے نہیں جائیں گے۔ تم سب کو تنخواہ بھی ملے گی۔‘‘ ابا میاں نے تفصیل بتائی اور دوسرے کاموں کا حوالہ دیا ’’مالی کو تنخواہ ملتی ہے۔ اگر سب بچے مل کر پانی ڈالیں تو۔۔۔‘‘

    ’’اے ہے! خدا کے لیے نہیں، ایسا غضب نہ کرنا۔ گھر میں سیلاب آ جائےگا۔‘‘ اماں جان نے التجا کی۔ پھر تنخواہ ملتی ہے۔ اگر سب بچے مل کر پانی ڈالیں تو۔۔۔‘‘

    ’’اے ہے! خدا کے لئے نہیں، ایسا غضب نہ کرنا۔ گھر میں سیلاب آ جائےگا۔‘‘ اماں جان نے التجا کی۔ پھر تنخواہ کے خواب دیکھتے ہوئے ہم لوگ کام پر تل گئے۔

    ایک دن فرشی دری پر بہت سے بچے جٹ گئے اور چاروں طرف سے دری کے کونے پکڑ لیے اور پھر کمرے کے اندر ہی اسے جھٹکنا شروع کر دیا۔ دو چار نے تو لکڑیاں لے کر دھواں دھواں پٹائی شروع کر دی۔

    ’’اے خدا کی سنوار۔ جھاڑو پھرے تمہاری صورتوں پر، ارے کم بختو! یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔‘‘ سارا گھر دھول سے اٹ گیا۔ کھانستے کھانستے سب بے دم ہو گئے۔ ساری گرد جو دری پر تھی وہ اور جو کچھ فرش پر تھی وہ سب کے سروں پر جم گئی۔ ناکوں اور آنکھوں میں گھس گئی، جس کی وجہ سے برا حال ہو گیا سب کا۔ مار مار کر ہم لوگوں کو آنگن میں نکالا گیا۔ وہاں ہم لوگوں نے جھاڑو دینے کا فیصلہ کیا۔

    جھاڑو چونکہ ایک تھی اور تنخواہ لینے کے امیدوار بہت۔ اس لیے دم بھر میں جھاڑو کے پرزے اڑ گئے۔ جتنی سینکیں جس کے ہاتھ پڑیں، وہ ان سے ہی الٹے سیدھے ہاتھ مارنے لگا۔ زمین کم اور ایک دوسرے کی ننگی ٹانگیں زیادہ جھاڑی گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سینکیں چلیں، آنکھیں پھوٹتے پھوٹتے بچیں۔

    اماں نے یہ سب دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیا۔

    بھئی! یہ بزرگ ہمیں کام کرنے دیں تو ہم کام کریں۔ جب ذرا ذرا سی بات پر ہم پر تھپڑوں کی بارش ہونے لگے تو بس ہو چکا کام۔

    اصل میں جھاڑو دینے سے پہلے ذرا سا پانی چھڑک لینا چاہئے تاکہ گردوغیرہ بیٹھ جائے۔ بس ہمارے ذہن میں یہ خیال آتے ہی فوراً دری پر پانی چھڑکا گیا۔ ایک تو ویسے ہی گرد میں اٹی ہوئی تھی۔ اس کے اوپر پانی پڑتے ہی ساری گرد کیچڑ بن گئی۔

    اب تو ہم سب صحن سے بھی مار مار کر نکالے گئے۔ طے ہوا کہ پیڑوں میں پانی دیا جائے۔ بس سارے گھر کی بالٹیاں، لوٹے، تسلے، بھگونے، پتیلیاں، لوٹ لی گئیں۔ جنہیں یہ چیزیں بھی نہ ملیں، وہ ڈونگے اور کٹورے گلاس ہی لے بھاگے۔

    اب سب لوگ نل پر ٹوٹ پڑے۔ یہاں پر بھی وہ گھمسان مچی کہ کیا مجال جو ایک بوند پانی بھی کسی کے برتن میں آ سکا ہو۔ ٹھوسم ٹھاس! کسی بالٹی پر پتیلا، اور پتیلے پر لوٹا اور بھگونے اور ڈونگے۔ پہلے تو دھکے چلے۔ پھر کہنیاں اور اس کے بعد برتنوں ہی سے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ بھاری برتنوں والے تو ہتھیار اٹھاتے ہی رہ گئے۔ کٹوروں اور ڈونگوں سے لیس فوج نے وہ معرکے مارے کہ سروں پر گومڑے ڈال دیئے۔

    فوراً بڑے بھائیوں، بہنوں، ماموؤں، چچاؤں اور دمدار خالاؤں اور پھوپھیوں کی ایک زبردست کمک بھیجی گئی۔ جنہوں نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ خدا کی پناہ! فوج نے آتے ہی اپنی پتلی پتلی نیم کی چھڑیوں سے ہماری ننگی ٹانگوں اور بدن پر وہ سڑاکے لگائے کہ ڈونگا اور کٹورا فوج میدان میں ہتھیار پھینک کر پیٹھ دکھا گئی۔

    اس زبردست دھینگا مستی میں کچھ بچے اس بری طرح سے کیچڑ میں لت پت ہو گئے تھے کہ انہیں پہچاننا مشکل ہو گیا تھا۔ ان بچوں کو نہلا کر کپڑے بدلوانے کے لیے نوکروں کی موجودہ تعداد ناکافی تھی، اس لیے پاس پڑوس کے بنگلوں اور کوٹھیوں سے نوکر بلوائے گئے اور چار آنے فی بچہ کے حساب سے ان سے نہلوائے گئے۔

    ہم لوگ قائل ہو گئے کہ سچ مچ یہ صفائی وغیرہ کے کام اپنے بس کی بات نہیں اور نہ ہی ان پیڑوں کی دیکھ بھال ہم سے ہو سکتی ہے۔ اس لئے مرغیاں ہی بند کر دیں۔ بس شام ہی سے یہ کام شروع کر دیا، لہٰذا جو بانس، چھڑی ہاتھ پڑی، لے لے کر مرغیاں ہانکنے لگے: ’’چل ڈربے، چل ڈربے۔‘‘ مگر صاحب! شاید ان مرغیوں کو بھی کسی نے ہمارے خلاف بھڑکا رکھا تھا۔ اوٹ پٹانگ ادھر ادھر کودنے لگیں۔ دو مرغیاں کھیر کے پیالوں سے، جن پر آپا چاندی کے ورق لگا رہی تھی، دوڑتی پھڑپھڑاتی نکل گئیں۔ طوفان گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ پیالے خالی ہیں اور ساری کھیر آپا کے کامدانی کے دوپٹے اور تازے دھلے سر پر۔ ایک بڑا سا مرغا اماں کے کھلے ہوئے پاندان میں پھاند پڑا اور کتھے چونے میں لتھڑے ہوئے پنجے لے کر نانی اماں کی سفید دودھ ایسی چاندنی پر مارتا ہوا نکل گیا۔ پاندان الٹ کر نیچے آ رہا۔

    ایک مرغی دال کی پتیلی میں چھپاکا مار کر بھاگی اور سیدھی جاکر موری میں اس تیزی سے پھسلی کہ ساری کیچڑ خالہ جی کے منہ پر جا پڑی جو وہاں پر بیٹھی ہاتھ منہ دھو رہی تھیں۔ ادھر تمام مرغیاں بےنکیل کااونٹ بنی دوڑتی پھر رہی تھیں اور کوشش کے باوجود ایک بھی مرغی ڈربے میں جانے کے لئے راضی نہ تھی۔

    ادھر کسی کو یہ سوجھی کی بقرعید کے لئے جو بھیڑیں گھر میں آئی ہوئی ہیں، وہ ضرور بھوکی ہوں گی۔ چلو لگے ہاتھوں انہیں بھی دانہ کھلا دیا جائے۔ دن بھر کی بھوکی بھیڑیں دانے کا سوپ دیکھ کر جو سب کی سب جھپٹیں، تو بھاگ کر اپنا آپ بچانا مشکل ہو گیا۔ لشتم پشتم تختوں پر چڑھ گئے۔ پر بھیڑچال مشہور ہے۔ ان کی نظریں تو بس دانے کے سوپ پر جمی ہوئی تھیں۔ پلنگوں کو پھلانگتی، برتن لڑھکاتی ساتھ ساتھ چڑھ گئیں۔

    تخت پر بانو آپا کے جہیز کا دوپٹہ پھیلا ہوا تھا، جس پر گوکھرو، چمپا اور سلمہ ستارے رکھ کر پڑی آپا، مغلانی بوا کو کچھ بتا رہی تھیں۔ بھیڑیں نہایت بےتکلفی سے سب چیزوں کو روندتی ہوئی، اپنے گھروں میں کرنیں، گوکھرو، لچکا اور سلمہ ستارے الجھاتی، جارجٹ کے دوپٹے روندتی، مینگینوں کا چھڑکاؤ کرتی دوڑ گئیں۔

    جب طوفان گزر چکا تو ایسا معلوم ہوا جیسے جرمنی کی فوج ٹینکوں اور بمباروں سمیت ادھر سے چھاپامار کر گزر گئی ہو۔ جہاں جہاں سے سوپ گزرا، بھیڑیں شکاری کتوں کی طرح بو سونگھتی حملہ کرتی گئیں۔

    حجن ماں ایک طرف پلنگ پر دوپٹے سے اپنا منہ ڈھانکے گہری نیند سو رہی تھیں۔ ان پر سے جو بھیڑیں دوڑیں، تو نہ جانے وہ خواب میں کن محلوں کی سیر کر رہی تھیں۔ دوپٹے میں الجھی ہوئی ’’مارو۔۔۔ مارو۔۔۔ پکڑو۔۔۔ پکڑو۔۔۔‘‘ چیخنے لگیں۔

    اتنے میں بھیڑیں سوپ کو بھول کر ترکاری بیچنے والی کی ٹوکری پر ٹوٹ پڑیں۔ وہ دالان میں بیٹھی مڑ کی پھلیاں تول تول کر باورچی کو دے رہی تھی۔ وہ اپنی ترکاری کا بچاؤ کرنے کے لئے سینہ تان کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ نے کبھی بھیڑوں کو مارا ہوگا، تو یہ بات اچھی طرح جانتے ہوں گے اور آپ نے دیکھا بھی ہوگا کہ بس ایسا لگتا ہے جیسے روئی کے تکیے کو کوٹ رہے ہیں۔ بھیڑ کے چوٹ ہی نہیں لگتی۔ بالکل یہ سمجھ کر کہ آپ اس سے مذاق اور لاڈکر رہے ہیں، وہ آپ ہی پر چڑھ بیٹھےگی۔

    ذرا سی دیر میں بھیڑوں نے ترکاری چھلکوں سمیت اپنے پیٹ کی کڑھائی میں جھونک دی۔ ادھر یہ قیامت مچی تھی، ادھر دوسرے کارندے بھی غافل نہیں تھے۔ اتنی بڑی فوج تھی، جسے رات کا کھانا نہ ملنے کی دھمکی مل چکی تھی۔

    چار کارندے جلدی جلدی ایک بھینس کا دودھ دوہنے پر جٹ گئے۔ ڈھلی بے ڈھلی بالٹی لے کر آٹھ ہاتھ جب چار تھنوں پر اچانک پل پڑے، تو بھینس ایک دم سے جیسے چاروں پیر جوڑ کر اٹھی اور بالٹی کو زور سے لات مار کر دور جا کھڑی ہوئی۔

    چاروں کارندوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا اور طے یہ پایا کہ بھینس کی اگاڑی پچھاڑی باندھ دی جائے اور پھر قابو میں لاکر دودھ دوہ لیا جائے۔ بس فوراً ہی جھولے کی رسی اتارکر بھینس کے پیر باندھ دیے۔ بھینس کے پچھلے دونوں پیر چچا میاں کی چارپائی کے پایوں سے باندھے اور اگلے دونوں پیروں کو باندھنے کی کوشش جاری تھی کہ بھینس ایک دم چوکنی ہو گئی۔ چھوٹ کر جو بھاگی ہے تو پہلے چچا میاں سمجھے کہ شاید کوئی خواب دیکھ رہے ہیں۔ پھر جب چارپائی پانی کے ڈرم سے ٹکرائی اور پانی چھلک کر ان کے اوپر گرا تو وہ سمجھے کہ آندھی اور طوفان میں پھنسے ہیں۔ ساتھ میں بھونچال بھی آیا ہوا ہے۔ پھر جلدی ہی انہیں اصلی حالات کا پتہ چل گیا اور وہ پلنگ کی دونوں پٹیاں پکڑے اور ان کو سانڈ کی طرح چھوڑ دینے والوں کو برا بھلا سنانے لگے۔

    یہاں اس منظر کا بڑا مزہ آ رہا تھا۔ بھینس دوڑی چلی جا رہی تھی اور پیچھے پیچھے چارپائی اور اس پر بالکل راجہ اندر کی طرح بیٹھے ہوئے چچا میاں۔

    اوہو، ایک بھول ہی ہوگی۔ یعنی بچھڑا تو کھولا ہی نہیں۔ اس لیے فوراً بچھڑا کھول دیا گیا۔ تیر نشانے پر بیٹھا اور بچھڑے کی مامتا میں بے قرار ہو کر بھینس نے اپنے کھروں کو بریک لگا لیے۔ بچھڑا فوراً جٹ گیا۔ دوہنے والے فوراً گلاس کٹورے لے کر لپکے، کیونکہ بالٹی تو چھپاک سے گوبر میں جا گری تھی۔ ایک بچھڑا اور چار بچے، بھینس پھر باغی ہو گئی۔ کچھ دودھ زمین پر اور کپڑوں پر، دو چار دھاریں گلاس کٹوروں میں بھی پڑ گئیں۔ باقی دودھ بچھڑا پی گیا۔ یہ سب کچھ ایک منٹ کے تین چوتھائی میں ہو گیا۔ گھر میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ایسا لگتا تھا جیسے سارے گھر میں مرغیاں، بھیڑیں، ٹوٹے ہوئے تسلے، بالٹیاں، لوٹے، کٹورے اور بچے بکھرے پڑے تھے۔

    اماں جان نے اپنا سر پیٹ لیا۔ آپا جان چوکھٹ پر بیٹھ کر رونے لگیں۔ بڑی مشکل سے امن قائم کر کے بھیڑیں، بھینس، اور بچے باہر کیے گئے۔ مرغیاں باغ میں ہنکائی گئیں۔ ماتم کرتی ہوئی ترکاری والی کے آنسو پونچھے گئے اور اماں جان آگرے جانے کے لیے سامان باندھنے لگیں:

    ’’یا تو بچہ راج قائم کرلوں، یا مجھے ہی رکھ لو۔ ورنہ میں تو چلی میکے۔‘‘ اماں نے الٹی میٹم دے دیا۔ ’’موئے بچے ہیں، کہ لٹیرے۔۔۔‘‘ اور ابا نے سب کو قطار میں کھڑا کر کے پوری بٹالین کا کورٹ مارشل کر دیا: ’’گر کسی بچے نے گھر کی کسی چیز کو بھی ہاتھ لگایا، تو بس رات کا کھانا بند۔‘‘

    یہ لیجئے! ان بزرگوں کو تو کسی کروٹ چین نہیں۔ ہم لوگوں نے بھی یہ طے کر لیا کہ اب چاہے کچھ بھی ہوجائے، ہل کر پانی بھی نہیں پئیں گے!!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے