موسل کے چاول

نامعلوم

موسل کے چاول

نامعلوم

MORE BYنامعلوم

    دلچسپ معلومات

    گوا

    پرانے زمانے میں کونکن دیس میں بڑے عالم رہا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب وہاں ودھواراجن نامی ایک شاعر بھی رہا کرتا تھا۔ ایک اچھا شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ دولت مند بھی کافی تھا۔ لیکن ایک بار سیہ یادری دیس کے راجہ نے کونکن پر ایک بھاری فوج لے کر چڑھائی کردی۔ لڑائی میں کونکن والے ہار گئے۔ ودھوا راجن تھا تو ایک دولت مند شاعرلیکن ملک کی آبرو بچانے کی خاطر سپاہی بن کر سیہ یادری فوج سے نبردآزما ہوا۔ کونکن کی شکست کے بعد وہ بہت دن تک ادھر ادھر بھٹکتا رہا۔ چلتے چلتے تھک کر چور ہوگیا تھا۔ اسے بھوک بھی بڑے زور سے لگی تھی۔ اور دوسری رات بھی ہونے کو آرہی تھی اسی لیے وہ جلدی جلدی چل کر ایک گاؤں میں پہنچا اور ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ ایک بڑھیا نے دروازہ کھولا۔

    وہ مارے بھوک کے بے چین ہو رہا تھا۔ بے چینی کے اس عالم میں ہی اس نے کہا۔ ’’نانی! بھوک کے مارے مرا جارہا ہوں۔ تھوڑا سا مانڈو دے دو‘‘۔

    بڑھیا بھی بڑی کائیاں تھی اور کنجوس بھی۔ بولی۔ ’’بیٹا! میں بھی کئی دن سے بھوک سے مری جارہی ہوں‘‘۔

    یہ سراسر جھوٹ تھا۔ ودھوا راجن شاعر تو تھا ہی۔ اس نے اپنے دل میں بہت سی باتوں کا تصور کر لیا اور ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کچھ گنگناتے ہوئے فیصلہ کیا۔

    اس نے بڑھیا سے کہا۔ ’’نانی! اگر کلہاڑی ہوتی تو کچھ نہ کچھ پکایا ہی جاسکتا تھا!‘‘

    ’’کلہاڑی! میں نے تو کبھی ایسا نہیں سنا کہ کلہاڑی سے کھانا بھی بن سکتا ہے‘‘۔ بڑھیابے قرار ہو کر بولی۔

    ’’اچھا ! نہیں سنا ہوگا۔ اسے رہنے دو۔ لیکن اب ایک ہنڈیا اور ایک موسل دے دیں تو کمال کر کے دکھا سکتا ہوں‘‘۔ ودھوا راجن نے کہا۔

    بڑھیا دانتوں تلے انگلی دبا کر رہ گئی اور دوسرے ہی لمحہ اس نے موسل اور ہنڈیا ودھوا راجن کو تھما دی۔

    ودھوا راجن نے موسل کو دھوکر ہنڈیا میں رکھا اور اس میں پانی ڈال کر چولھے میں آگ جلادی۔ تھوڑی دیرمیں اس نے اسے چکھنے کا بہانہ کیا۔ پھر وہ بڑھیا سے بولا۔ ’’نانی! اگر آج تھوڑا نمک ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا‘‘۔

    ’’ٹھہر بیٹا! میں نمک ابھی لائے دیتی ہوں‘‘۔ بڑھیا یہ کہہ کر اندر گئی اور نمک لاکر دے دیا۔

    ودھوا راجن نے نمک ہانڈی میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کہا ’’اب مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ صرف دو مٹھی چاول کی کسر ہے!‘‘

    ’’چاول کی کیا بات ہے بیٹا۔ میں ابھی لاتی ہوں‘‘۔ بڑھیا یہ کہتے ہوئے اٹھی اور آن واحد میں تھوڑے سے چاول بھی لاکر دے دیئے۔ اس طرح ودھوا راجن نے چاول پکالیے۔ پھر انہیں چکھ کر کہا۔ ’’نانی! اب اگر میں تھوڑا سا مکھن ڈال دیاجائے تو کیا کہنے‘‘۔

    تبھی بڑھیا نے مکھن بھی لاکر دے دیا۔ ودھوا راجن نے پکے ہوئے چاول میں مکھن ڈال دیا۔

    تھوڑی دیر بعد اس نے چولہے سے ہانڈی اتاری اور بڑھیا سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’اب انہیں چکھ کر نہ دیکھوگی نانی!‘‘

    ’’ہاں ہاں کیوں نہیں‘‘۔ بڑھیا نے بڑے شوق سے چاول چکھے اور بولی ’’کیا بڑھیا چاول پکے ہیں! مجھے معلوم نہ تھا کہ موسل کے چاول اتنے اچھے پک سکتے ہیں۔ تب تو بیٹا کلہاڑی کے چاول تو بہت عمدہ ہوتے ہوں گے‘‘۔

    ودھورا راجن چپ چاپ چاول کھانے میں مصروف رہا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے