Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ahmad Salman's Photo'

احمد سلمان

1964 | کراچی, پاکستان

احمد سلمان

غزل 4

 

اشعار 5

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا

ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ کو چلو اتنا

یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں

تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا

انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے

تصویری شاعری 1

 

ویڈیو 6

This video is playing from YouTube

آڈیو 3

جو دکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان_دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو

Recitation

 

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے