بیخود دہلوی
غزل 58
اشعار 82
ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی
دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں
کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے
EXPLANATION #1
شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے اسی نے اسے دل چسپ بنایا ہے۔ اس میں لفظ بات کی اگرچہ تین دفعہ اور پہلو کی دو دفعہ تکرار ہوئی ہے مگر لفظوں کی ترنم ریزی اور بیان کی روانی کے وصف نے شعر میں لطف پیدا کیا ہے۔ پہلو کی مناسبت سے لفظ بدلنے نے شعر کی کیفیت کو تاثر بخشا ہے۔
دراصل شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، وہ اگرچہ کسی تخصیص کا حامل نہیں بلکہ عام فہم ہے مگر جس انداز سے شاعر نے اس نکتے کوبیان کیا ہے وہ اس نکتے کو عام فہم ہونے کے باوجود نادر بنادیتا ہے۔
ٍشعر کا مفہوم یہ ہے کہ بات کو کچھ ایسے رمزیہ انداز میں کہنا چاہیے کہ اس سے سو طرح کے مفہوم بر آمد ہوں۔کیونکہ معنی کے اعتبار سے اکہری بات کہنا دانا لوگوں کا شیوہ نہیں بلکہ وہ سو نکتوں کا نچوڑ ایک بات میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح سے سننے والوں کو بحث کرنے یا وضاحت طلب کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو ہاتھ آجاتا ہے۔ اور جب بات کے پہلو کثیر ہوں تو بات بدلنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ یعنی نکتے سے نکتہ برآمد ہوتا ہے۔
شفق سوپوری
نعت 1
کتاب 6
تصویری شاعری 3
آڈیو 17
آپ ہیں بے_گناہ کیا کہنا
ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہے
بزم_دشمن میں بلاتے ہو یہ کیا کرتے ہو
دیگر شعرا کو پڑھیے
-
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
-
جے کرشن چودھری حبیب
-
جمیلہ خدا بخش
-
نوح ناروی
-
شاد عظیم آبادی
-
میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
-
مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی
-
قمر جلالوی
-
منشی نوبت رائے نظر لکھنوی
-
فانی بدایونی
-
ناطق گلاوٹھی
-
علامہ اقبال
-
جلیل مانک پوری
-
جگر مراد آبادی
-
فیض الحسن خیال
-
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
-
شکیل بدایونی
-
حسرتؔ موہانی
-
بیخود موہانی
-
احمد فراز