Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mehwar Noori's Photo'

محور نوری

1946 | دلی, انڈیا

محور نوری کے اشعار

ہمیں عزیز ہو کتنے یہ جاننے کے لئے

ہماری جان بھی حاضر ہے آزماؤ ہمیں

دولت سے کہاں جڑتے ہیں ٹوٹے ہوئے رشتے

شیشے کو کبھی گوند سے جوڑا نہیں جاتا

یوں اٹھا میرے نشیمن سے دھواں

درد پہلو سے اٹھا ہو جیسے

Recitation

بولیے