احمد صغیر (16)

1963   |   گیا

عصر حاضر کے مشہور فکشن رائٹر۔ افسانہ اور ناول نگاری میں یکساں مہارت کے ساتھ لکھتے ہیں۔ پانچ افسانوی مجموعے اورتین ناول کامیاب تخلیقی حصول کی مثالیں ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ”منڈیر پر بیٹھا پرندہ“، ”انّا کو آنے دو “، ”درمیاں کوئی تو ہے“، ”مسیحائی“، ”تعفن“،”ہَوا شکار“ اور ”شگاف“ وغیرہ کا نام خصوصی طور پر لیا جاتا ہے نیز تینوں ناول ”جنگ جاری ہے“، ”دروازہ ابھی بند ہے“ اور ”ایک بوند اُجالا“مقبول عام ہو چکے ہیں۔ ان کے کئی افسانے ہندی‘ مراٹھی اور اڑیہ میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔

احمد صغیر فکشن لکھنے والوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو 1980ءکے بعد منظر عام پر آئی اور جس نے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی کیونکہ اُردو افسانے میں نمایاں طور پر جو تبدیلی آئی وہ 1980ءکے بعد ہی آئی۔ اسی نسل نے افسانہ کا کھویا ہوا وقار بحال کیا۔

تخلیقی سفر کا آغاز و ارتقا

پہلا افسانہ  باسی روٹی“پالیکا سماچار نئی دہلی،جون 1980

پہلا ناول  جنگ جاری ہے“    مکتبہ استعارہ‘ دہلی2001

پہلی تنقیدی کتاب  ”جدید اُردو افسانے میں احتجاج کی بازگشت     

صحافت

 l              پندرہ روزہ ”دھرتی“1980ءسے 1982

 l              ماہنامہ ”ترسیل“1982ءسے 1986

 l              دو ماہی ”حالی“1984ءسے 1987

دیگر خدمات

l               ریڈیو اورٹیلی ویژن کے پروگراموں میں 1985ءسے آج تک شامل ہورہے ہےں ۔

دلّی میں قیام کے دوران ساہیتہ اکادمی ” دلّی اُردو اکادمی“ غالب‘ اکادمی‘ جواہر لال نہرو یونیورسٹی‘ جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ دلّی یونیورسیٹی اور دیگر تنظیموں کی طرف سے ہونے والے ہر پروگراموں میں نہ صرف ان کی شمولیت رہی بلکہ کئی سیمینار میں اپنا مضمون اور افسانہ بھی پیش کیا۔ آل انڈیا ریڈیو اردو سروس سے کئی اہم مقالے نثر ہوئے اور دوردرشن کا پروگرام ”بزم“ میں بھی حصہ لیا۔

تصانیف

 افسانوی مجموعے

(ا)”منڈیر پر بیٹھا پرندہ“سال اشاعت 1995،ناشر : تخلیق کار پبلیشرز ‘دلّی

مشمولہ افسانے:منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘ سرنگ ‘کچھ بھی تو نہیں بدلا‘شگاف‘کرفیو کب ٹوٹے گا‘آگے بڑھتا ہوا آدمی‘ بے پناہ جنگل اور وجود‘شہر چھوڑتا نہیں‘اُداس ہو جانے والا لمحہ‘مسیحا کون ہے ربّا‘کرب کا لاو ا‘ عجوبہ ‘سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘کیچ کیچ ہا‘اپنا اپنا پنجرہ‘تاریکیوں کا رقص اور میرا وجود‘شکستہ لمحے‘محض انتظار‘ قطرہ قطرہ زہر ‘منظر دھواں دھواں۔

(۲)انّا کو آنے دو“سال اشاعت 2001،ناشر مکتبہ استعارہ ‘ نئی دلّی

مشمولہ افسانے: انّا کو آنے دو ‘ پیاسی ہے زمیں پیاسا آسماں‘ اوور ٹائم‘ جنگ جاری ہے‘ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘ بھگوان کے نام پر‘مریادا اور ٹانڈو رقص‘ اندھیرے جاگتے ہیں‘ سوچ کا کرب‘روشنی بلاتی ہے‘ سایہ‘درد بھری زمیں۔

(۳)درمیاں کوئی تو ہے“سال اشاعت 2007،ناشر ترسیل پبلی کیشنز‘ نئی دلّی

مشمولہ افسانے : درمیاں کوئی تو ہے‘ تعفن‘ جائے امان‘ فصیل شب میں جاگتا ہے کوئی‘ ڈوبتا اُبھرتا ساحل‘ منتظر لمحوں کی آواز‘ پناہ گاہ‘ شاخ نازک پر‘ سوانگ‘ ٹریٹمنٹ‘ چارہ گر‘ خواب خواب زندگی‘ اورزنجیر ٹوٹ گئی‘ حیثیت۔

(۴)داغ داغ زندگی“سال اشاعت 2013 ،ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس، دہلی

مشمولہ افسانے :مسیحائی‘ داغ داغ زندگی‘ سمندر جاگ رہا ہے‘ آتش فشاں‘ پھانس‘ صنم آشنا‘ میں دامنی نہیں ہوں‘ کاہے کو بیاہی بدیس‘ ہم سفر‘ یہ زندگی‘ شدّھی کرن‘ ہَوا شکار‘ زینہ‘ آگ ابھی باقی ہے‘ سیاہ رات کی صبح‘ یہ آگ کب بجھے گی۔

(۵)کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ،سال اشاعت 2015 ،ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس، دہلی

مشمولہ افسانے : تعفن‘ انّا کو آنے دو‘ ڈوبتا ابھرتا ساحل‘پیاسی ہے زمیں پیاسا آسماں‘ فصیل شب میں جاگتا ہے کوئی‘ پناہ گاہ‘ شدّھی کرن‘ بے پناہ جنگل اور وجود‘ سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘ آگ ابھی باقی ہے‘ کاہے کو بیاہی بدیس‘ میں دامنی نہیں ہوں‘اوور ٹائم‘کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

ناول

”جنگ جاری ہے“2001،ناشر : مکتبہ استعارہ ‘ نئی دلّی

دروازہ ابھی بند ہے“2008،ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس‘ دلّی

ایک بوند اُجالا“2013،ناشر : عرشیہ پبلی کیشنز‘ دلّی

تنقید و تحقیق

اردو افسانوی میں احتجاج کی باز گشت

اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ:1980ءکے بعد

بہار میں اُردو فکشن ایک تنقیدی مطالعہ

عطاءاللہ پالوی (مونوگراف)

اُردو ناول کا تنقیدی جائزہ:1980 کے بعد

بہار کی یونیورسٹیوں میں اُردو زبان و ادب    کی توسیع و ترقی میں اساتذہ کی خدمات

دیگر تصانیف

چھد دسمبر   ،1993،ناشر : ترسیل پبلی کیشنز‘ گیا

بابری مسجد پر لکھی گئی نظموں‘ غزلوں کا انتخاب

نئی کہانی نیا مزاج،1989،ناشر : ترسیل پبلی کیشنز‘ گیا

 نویں دہائی کے افسانہ نگاروں کے افسانوں کا انتخاب اور تجزیہ       

ہندی

چنگاریوں کے درمیاں (غزلیں)   2002ئ   ناشر : مکتبہ استعارہ‘ نئی دلّی

ترجمہ:

بے شناخت              (اردو سے ہندی)       ناصر بغدادی

تلاش بہاراں            (اردو سے ہندی)       کشوری لال نسیم

پرتی نیدھی شاعری     (اردو سے ہندی)       اکبر الہٰ آبادی

پرتی نیدھی شاعری     (اردو سے ہندی)       شکیب جلالی

پرتی نیدھی شاعری     (اردو سے ہندی)       خواجہ میر درد

]یہ چاروں کتابیں رادھا کرشن پرکاش‘ نئی دہلی سے شائع ہو چکی ہیں[

اعزاز و انعام :

منڈیر پر بیٹھا پرندہ،بہار اردو اکادمی۱۹۹۵

انّا کو آنے دو،مغربی بنگال اردو اکادمی۲۰۰۱

جدید اردو افسانوں میں احتجاج،دہلی اردو اکادمی۲۰۰۳

جدید اردو افسانوں میںاحتجاج ،بہار اردو اکادمی۲۰۰۳

سہیل عظیم آبادی ایوارڈ،بہار اردو اکادمی۲۰۰۸

اُردو افسانے کا تنقیدی جائزہ،اتر پردیش اردو اکادمی۲۰۰۹

داغ داغ زندگی،اتر پردیش اردو اکادمی۲۰۱۳

ایک بوند اُجالا،بہاراردو اکادمی۲۰۱۴

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے،اُتر پردیش اردو اکادمی۲۰۱۵

٭٭٭

احمد صغیر
باعتبار : عنوان
  • عنوان
  • سال
  • مصنف

آسماں کے آگے

احمد صغیر

2019

احمد صغیر فن فکشن فنکار

ڈاکٹر نزہت پروین

2015

انا کو آنے دو

احمد صغیر

2001

بہار کی یونیورسٹیوں میں اردو زبان و ادب کی توسیع و ترقی میں اساتذہ کی خدمات

احمد صغیر

2016

بہار میں ترقی پسند اردو افسانہ

ڈاکٹر نزہت پروین

  

بہار میں اردو فکشن ایک تنقیدی مطالعہ

احمد صغیر

2014

داغ داغ زندگی

احمد صغیر

2013

درمیان کوئی تو ہے

احمد صغیر

2007

دروازہ ابھی بند ہے

احمد صغیر

2008

ایک بوند اجالا

احمد صغیر

2013

جدید اردو افسانوں میں احتجاج کی بازگشت

احمد صغیر

2003

جنگ جاری ہے

احمد صغیر

2002

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے

احمد صغیر

2015

منڈیر پر بیٹھا پرندہ

احمد صغیر

1995

اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ

احمد صغیر

2009

اردو ناول کا تنقیدی جائزہ: 1980 کے بعد

احمد صغیر

2015