ابن کنول (14)

1957   |   دلی

ابن کنول ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد کنولؔ ڈبائیوی ایک قومی شاعر تھے، شعروادب کی خدمت آپ کا مشغلہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی تربیت میں رہ کر آپ کے ادبی ذوق کو جلا ملی ہوگی۔ ابن کنو ل کے والد کہا کرتے تھے کہ ہماری زمینداری ہماری اولاد ہے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ الحمدﷲ ان کے سبھی لڑکوں نے اعلٰی تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے زمانے میں ہی آپ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھنے لگے تھے۔ آپ کے اسکول کے ساتھی اسلم حنیف شاعری کیا کرتے تھے اورآپ کہانی لکھے آ تھے۔ کبھی کبھی ان سے متأثر ہوکرابن کنول بھی شاعری میں طبع آزمائی کر لیا کرتے تھے۔ ابن کنول بتاتے ہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی تخلیقات پڑھ کر سناتے اور خوش ہوتے۔ یہ ابتدائی زمانے کی شاعری اور افسانے ظاہر ہے کہ اس معیار کی نہیں ہوتی تھیں کہ انہیں افسانہ یا شاعری میں شمار کیا جاتا۔ لیکن کہتے ہیں کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ یہ ابتدائی نگارشات ابن کنول کے مستقبل کے ادبی سفر کی تمہید تھے۔ ابن کنول کے ادبی ذوق کو جلا بخشنے میں علی گڑھ کی ادبی و علمی فضا کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ ایم اے میں آپ’’انجمن اردو ئے معلی‘‘کے سکریٹری رہے۔ یہ وہی انجمن ہے جس کی بنیاد مولانا حسرت موہانی نے رکھی تھی۔ اسلم حنیف سے متأثر ہوکر ابن کنول نے اس زمانے میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے پر پہلی نظم کہی تھی جو ماہنامہ نور رامپور میں شائع ہوئی۔ لیکن جلد ہی ابن کنول نے اندازہ لگا لیا کہ ان کا حقیقی میدان افسانہ ہے۔ اس وجہ سے آپ نے اپنی توجہ اسی طرف رکھی۔ ابتدا میں ناصر کمال کے نام سے افسانے لکھتے تھے۔ لیکن 1975 سے ابن کنول کے نام سے افسانے لکھنے لگے۔ ابن کنول اصل میں آپ کے والد کی طرف نسبت ہے ۔باقاعدہ افسانہ لکھنے کا آغاز 1972 سے ہوا۔ آپ کا پہلا مطبوعہ افسانہ ’اپنے ملے اجنبی کی طرح ‘ ہے جو 1974میں آفتاب سحر (سکندرآباد) نامی رسالے میں شائع ہوا۔ جب 1973میں آپ نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا تو قاضی عبد الستار کی سرپرستی مل گئی۔ قاضی عبد الستار کے مکان پر ماہانہ نشستیں ہوتی تھی جس میں نوجوان ادیب اپنی نگارشات پیش کیا کرتے تھے اور قاضی عبد الستار اور دیگر ان پر تبصرہ کرتے تھے۔ ان نوجوان ادیبوں اور شاعروں میں جو لوگ تھے ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں :شارق ادیب، سید محمد اشرف، غضنفر، پیغام آفا قی، طارق چھتاری، غیاث الرحمان، صلاح الدین پرویز، آشفتہ چنگیزی، فرحت احساس، اسعد بدایونی، مہتاب حیدر نقوی وغیرہ۔ علی گڑھ میں تعلیم کے دوران میں آپ کے افسانے ملک کے معروف ادبی رسالوں میں شائع ہونے لگے تھے۔ جن میں شاعر، عصری ادب، آہنگ، صبح ادب اور نشانات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ابن کنول نے بتایا کہ ’بندراستے ‘ جب1976 میں عصری ادب میں شائع ہوا تو محمد حسن نے اس کی بڑی تعریف کی۔ طالب علمی کے زمانے میں اردو کے اس عظیم ناقد سے تحسین کے کلمات کسی سند سے کم نہیں تھے ۔ دہلی یونی ورسٹی میں داخل ہونے کے بعد بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ برقرار رہا۔ یہاں آکر پروفیسر قمر رئیس اور ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی تربیت میں آپ کے اندر تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتیں پروان پائیں۔

ابن کنول
باعتبار : عنوان
  • عنوان
  • سال
  • مصنف

ہندوستانی تہذیب : بوستان خیال کے تناظر میں

ابن کنول

1988

انتخاب سخن

ابن کنول

2005

میر امن

ابن کنول

2012

مغل تہذیب

محبوب اللہ مجیب

1965

منتخب غزلیات

ابن کنول

2005

نظیر اکبرآبادی منتخب شاعری

  

2013

نقوش

  

1953

پچاس افسانے

ابن کنول

2014

ریاض دلربا

منشی گمانی لعل

1990

سر سید احمد خان

فرح جاوید

2011

تحقیق و تدوین

  

2006

تنقیدی اظہار

ابن کنول

2015

تنقید و تحسین

ابن کنول

2006

اردو فکشن اور علی گڑھ

فرح جاوید

2012