جیسی اب ہے اسی حالت میں نہیں رہ سکتا

ظفر اقبال

جیسی اب ہے اسی حالت میں نہیں رہ سکتا

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    جیسی اب ہے اسی حالت میں نہیں رہ سکتا

    میں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتا

    کھل کے رو بھی سکوں اور ہنس بھی سکوں جی بھر کے

    ابھی اتنی بھی فراغت میں نہیں رہ سکتا

    دل سے باہر نکل آنا مری مجبوری ہے

    میں تو اس شور قیامت میں نہیں رہ سکتا

    کوچ کر جائیں جہاں سے مرے دشمن اے دوست

    میں وہاں بھی کسی صورت میں نہیں رہ سکتا

    کوئی خطرہ ہے مجھے اور طرح کا اے دوست

    میں جو اب تیری حفاظت میں نہیں رہ سکتا

    چاہیئے ہے مجھے کچھ اور ہی ماحول کہ میں

    اور اب اپنی رفاقت میں نہیں رہ سکتا

    کچھ بھی میں کرتا کراتا تو نہیں ہوں لیکن

    باوجود اس کے فراغت میں نہیں رہ سکتا

    شک مجھے یوں تو خیانت کا نہیں ہے کوئی

    میں کسی کی بھی امانت میں نہیں رہ سکتا

    ویسے رہنے کو تو خوش باش ہی رہتا ہوں ظفرؔ

    سچ جو پوچھیں تو حقیقت میں نہیں رہ سکتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY