نہ جانے کیسی محرومی پس رفتار چلتی ہے

عزیز نبیل

نہ جانے کیسی محرومی پس رفتار چلتی ہے

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    نہ جانے کیسی محرومی پس رفتار چلتی ہے

    ہمیشہ میرے آگے آگے اک دیوار چلتی ہے

    وہ اک حیرت کہ میں جس کا تعاقب روز کرتا ہوں

    وہ اک وحشت مرے ہم راہ جو ہر بار چلتی ہے

    نکل کر مجھ سے باہر لوٹ آتی ہے مری جانب

    مری دیوانگی اب صورت پرکار چلتی ہے

    عجب انداز ہم سفری ہے یہ بھی قافلے والو

    ہمارے درمیاں اک آہنی دیوار چلتی ہے

    غزل کہنا بھی اب اک کار بے مصرف سا لگتا ہے

    نیا کچھ بھی نہیں ہوتا بس اک تکرار چلتی ہے

    نبیلؔ اس عشق میں تم جیت بھی جاؤ تو کیا ہوگا

    یہ ایسی جیت ہے پہلو میں جس کے ہار چلتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY