پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ

اعجاز گل

پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ

    باقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھ

    حاسد بہت ہے پل میں ہویدا کرے خزاں

    اتنا نہ لگ کے بیٹھ بہار آئنے کے ساتھ

    پتھرا گئے ہیں لوگ تجلی سے حسن کی

    تھوڑا سا ڈال رخ پہ غبار آئنے کے ساتھ

    کرتا ہے عکس زیر و زبر نامراد وقت

    جب گھومتا ہے الٹے مدار آئنے کے ساتھ

    پایا نہ کچھ خلا کے سوا عکس حیرتی

    گزرا تھا آر پار ہزار آئنے کے ساتھ

    معدوم ہو رہے ہیں خد و خال کس سبب

    گفت و شنید کر مرے یار آئنے کے ساتھ

    ویران سا کھنڈر ہے مگر سیر کے لیے

    لگتی ہے اک طویل قطار آئنے کے ساتھ

    معکوس و عکس کیسے ہیں پیوست دیکھ تو

    آئینہ کر رہا ہے سنگھار آئنے کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY