Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: ترقی پسند ادیب، ناول نگار، شاعر اور خاکہ نگار

کشمیری لال ذاکر ترقی پسند فکر سے وابستہ اہم ادیبوں اور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے شاعری، افسانہ اور ناول کے ذریعے ملک کے المناک سیاسی، تہذیبی اور سماجی مسائل کے خلاف مسلسل تخلیقی جدوجہد کی۔

کشمیری لال ذاکر 7 اپریل 1919ء کو بیگابنیان، گجرات (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ریاست پونچھ اور سری نگر کے اسکولوں میں حاصل کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کیا۔

ذاکر نے اپنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا، مگر بتدریج فکشن کی طرف متوجہ ہوگئے۔ منٹو، کرشن چندر، اشک، بھیسم ساہنی اور بیدی جیسے ادیبوں کی رفاقت نے ان کے افسانوی اسلوب کو نکھارا اور انہیں ملکی مسائل پر ایک ذمے دار تخلیق کار کے نقطۂ نظر سے سوچنے میں مدد دی۔

تقسیمِ ہند کے بعد بھڑکنے والے فسادات اور کشمیر کی المناک صورتحال نے انہیں گہرے طور پر متاثر کیا۔ ان حالات سے پیدا ہونے والا کرب ان کی کہانیوں کا اہم جوہر بن گیا۔’جب کشمیر جل رہا تھا‘، ’انگھوٹھے کا نشان‘، ’اداس شام کے آخری لمحے‘، ’خون پھر خون ہے‘، ’ایک لڑکی بھٹکی ہوئی‘ وغیرہ ان کے تخلیقی کرب کا اظہار ہیں۔

ان کی مختلف اصناف پر مشتمل سو سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔ انہیں متعدد اہم ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

وفات: 31 اگست 2016ء کو چندی گڑھ میں انتقال ہوا۔


.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے