Editor : Ali Jawwad Zaidi

Shumara Number: Shumara Number-001

Publisher : Mohkama-e-Ittilaat Wa Rabta-e-Aamma Uttar Pardesh, Lucknow

Origin : Lucknow (City), Other (District), Uttar pradesh (State), India (Country)

Year of Publication : 1957

Language : Urdu

Pages : 84

Contributor : Rampur Raza Library, Rampur

Month : January

Naya Daur, Lucknow

About The Magazine

رسالہ "نیا دور" لکھنئو سے شائع ہونے والا ایک ماہنامہ ہے۔ جس کا پہلا شمارہ اپریل ۱۹۵۵ میں منظرِ عام پر آیا۔ یہ رسالہ نظامتِ اطلاعات، حکومتِ اترپردیش سے شائع ہوتا ہے۔ ماہنامہ کی شکل میں جاری اس رسالے کی عمومی ضخامت ۶۰ سے ۷۰ صفحات پر مشتمل ہوتی ہے۔ ۱۹۵۵ میں اس رسالے کی قیمت ۴ آنہ فی پرچہ اور تین روپیہ سالانہ تھی، جو اب ۲۰۱۹ میں علی الترتیب ۱۵ روپے اور ۱۸۰ روپے ہوگئی ہے۔ رسالہ "نیا دور" دراصل ماہنامہ "اطلاعات" کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ نیا دور کے پہلے شمارے میں اس تعلق سے یوں وضاحت کی گئی ہے، "اطلاعات کے پڑھنے والوں نے ادھر کئی مہینوں سے گوناگوں صوری اور معنوی تبدیلیوں کو محسوس کیا ہوگا جن کا نتیجہ "نیا دور" کی شکل میں پیشِ خدمت ہے۔ نیا دور کی اشاعت کا مقصد صحت مند ادب کو فروغ دینا ہے۔ اگر ادب ملکی زندگی کا آئینہ دار اور سماجی زندگی کا عکاس ہے تو اسے تعمیری مہم میں حصہ لانا ہوگا، عوام کے دلوں میں جذبۂ تعمیر و ترقی بیدار کرنا اور ایک نئے مستقبل کی تشکیل کا ولولہ پیدا کرنا ہمارا نصب العین ہے۔" رسالہ "نیا دور" کا نعرہ ہے، "زبان و ادب، تہذیب و ثقافت کا ترجمان۔" نیا دور کے ابتدائی شماروں سے پتہ نہیں چلتا کہ ان کی ادارت یا جمع و ترتیب کس نے کی ہے، نہ ہی کاتب اور تزئین کار کے متعلق کوئی معلومات ملتی ہے۔ اگست ۱۹۵۶ سے نیا دور کے ابتدائی صفحوں پر مدیر اور ترتیب کردہ کے متعلق لکھا جانے لگا۔ اس زمانے میں نیا دور کے مدیر علی جواد زیدی اور نائب مدیر فرحت اللہ انصاری تھے۔ یہ رسالہ حکومت سے براہِ راست شائع ہوتا تھا لہٰذا سیاست اور ادبی محاذ آرائیاں کبھی رونما نہیں ہوئیں۔ اپنے آغاز میں ہی اسے بلند پایہ ادیبوں اور شاعروں کا تعاون ملا۔ چناںچہ اس ہلکے پھلکے ادبی رسالے میں شمیم کرہانی، حامد اللہ افسر، فرحت اللہ انصاری، علی جواد زیدی، فراق گورکھپوری، عرش ملسیانی، نازش پرتاب گڑھی، نثار احمد فاروقی، کمال احمد صدیقی، نشور واحدی، علی عباس حسینی، جواہر لال نہرو، فضا ابن فیضی، نیاز فتحپوری، حفیظ بنارسی،جگن ناتھ آزاد جیسے مشاہیر قلم شائع ہوتے رہے۔ اس کے بعد صباح الدین عمر نے ادارت کی جس کے پہلے ہی شمارے میں جگر مرادآبادی کا خوش خط آٹو گراف اور تصویر چھپی۔ ساتھ ہی عبدالماجد دریابادی، اعجاز صدیقی، خواجہ احمد عباس، معین احسن جذبی، تلوک چند محروم، شاذ تمکنت، نریش کمار شاد وغیرہ بھی چھپے۔ الغرض شعراء و ادباء "نیا دور" میں شائع ہونے کو اعزاز اور افتخار سمجھتے تھے۔ اگست کی مہینے میں "نیا دور" کے تحت اسپیشل نمبر بھی چھپے۔ اس کے علاوہ بھی کئی خصوصی شمارے اور گوشے گاہے بہ گاہے شائع ہوتے رہے۔ صباح الدین عمر کے بعد نیا دور کی ادارت خورشید احمد، امیر احمد صدیقی، سید امجد حسین، شاہ نواز قریشی، سید خالد احمد اور وضاحت حسین رضوی نے کی۔ اس دوران نیا دور کا ماد ر اور ترتیب جوں کا توں قائم رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً سو سال پرانے اس رسالے کی آج بھی ہاتھ سے کتاب کی جاتی ہے۔ نیا دور میں کئی خصوصی شمارے شائع ہوئے جن میں قابلِ ذکر نام کچھ یوں ہیں: تعمیری ادب نمبر، جواہر لال نہرو نمبر، اثر لکنوی نمبر، مہاتما گاندھی نمبر، غالب نمبر، امیر خسرو نمبر، نول کشور نمبر، فراق کے دو خصوصی نمبر، نصف صدی نمبر اور کیفی اعظمی نمبر۔

.....Read more

About The Editor

Zaidi was born in the village Karhan, Uttar Pradesh, then in Azamgarh district (now Mau district) on 10 March, 1916. After receiving his early education at home, he joined the school of Mehmoodabad state and passed his matriculation examination in 1935, intermediatein 1937, and B. A. in 1939 from Lucknow University. This was the time of freedom struggle and the younger generation was drawn heavily towards Communism. So, he also joined the Communist Party of India as a member and took part in the struggle for freedom. He was also arrested in this process and was jailed for six months.   
After independence, he joined government service and worked on prominent positions. He also shared administrative responsibility in the Commission established by the government for the development of Urdu.  
Zaidi contributed both in prose and poetry. His poems are included in Tesha-i-Aawaaz and Rag-e-Sung. Many of his poems reflect his patriotic concerns. He is also the author of critical books that include Do Adabi School and Qaseeda Nigaaraan-e-Uttar Pradesh, Tareekh Urdu Adab ki Tadween, Urdu Mein qaumi Shairu ke Sau Saal, apart from others. He also wrote a history of Urdu literature in Englsih which was published by Sahitya Akademi, New Delhi. In 1988, he was awarded Padmashri for his social and literary services. He passed away on 07 December, 2004.

.....Read more

More From Editor

Read the editor's other magazines here.

See More

Most Popular Magazines

Browse this curated collection of most popular magazines and discover the next best read. You can find out popular magazines online on this page, selected by Rekhta for Urdu magazine readers. This page features most popular Urdu magazines.

See More
Speak Now