aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
اردو میں عروض و بلاغت کی سب سے اہم اور کلاسکی کتاب مولوی محمد نجم الغنی کی "بحر الفصاحت" ہے اس کتاب کو اردو عروض و بلاغت میں ماٰخذ کی حیثیت حاصل ہے ،زیر نظر کتاب اسی اہم اور نہایت مفید کتاب کی تلخیص ہے، چونکہ بحر الفصاحت کافی زخیم کتاب ہے اس لیے عارف حسن خان نے لوگوں کی آسانی کو مد نظر رکھتے ہوئےبحر الفصاحت کو ملخص کرکے پیش کر دیا، تاکہ اس کتاب کے اصل مواد سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے، اس تلخیص میں بحر الفصاحت کی تقریبا سبھی اہم بحثوں کو پیش کیا گیا ہے. تاہم، بحر الفصاحت میں کسی ایک چیز کوسمجھانے کے لئے مثال میں کئی کئی اشعار پیش کردیے گئے ، ان اشعار کی تعداد کو کم کردیا گیا ہے۔ ایسے ہی بحر الفصاحت میں ہر شعر کے ساتھ شاعر کا نام بھی ذکر کیا گیا تھا تاہم ان ناموں میں کہیں کہیں اغلاط تھے جس کے پش نظر اشعار کے ساتھ موجود ناموں کو اس کتاب میں حذف کردیا گیا ہے ،تلخیص کرتے وقت مصنف نے اگر خود سے کچھ الفاظ یا فقرے بڑھائے ہیں، ان کو بین القوسین کردیا ہے اور کئی ایسی،مباحث کو سرے سے ہی حذف کردیا ہے جن کے بارے میں مصنف نے محسوس کیا کہ یہ ابحاث زیادہ ضروری نہیں ہیں، بہر کیف زیر نظر کتاب بحر الفصاحت کی عمدہ تلخیص ہے جو عروض و بلاغت کے سمجھنے اور سمجھانے میں کافی معین و مددگار ہے۔
شناخت: نامور مورخ، ماہرِ عروض و لسانیات، طبیبِ حاذق، بلند پایہ محقق اور شاعر
اردو ادب اور برصغیر کی علمی تاریخ میں مولوی حکیم محمد نجم الغنی خاں رام پوری (متخلص بہ نجمی) ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں جن کی علمی فتوحات کا دائرہ تاریخ نگاری، علمِ عروض، طبِ یونانی، لسانیات اور شاعری تک پھیلا ہوا ہے۔
8 اکتوبر 1859ء کو ریاست رام پور کے ایک بلند پایہ علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے اس درویش صفت عالم نے اپنی 82 سالہ زندگی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جن کی مثال عصرِ حاضر میں ملنا مشکل ہے۔ آپ کا خاندان نسل در نسل فقہ، تصوف اور انشا پردازی کے لیے وقف تھا؛ آپ کے پردادا مولوی عبد الرحمن خاں کو شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی قربت حاصل تھی، جبکہ آپ کے والد مولوی عبد الغنی خاں اپنے عہد کے ممتاز عالم تھے۔
حکیم نجم الغنی خاں کی ابتدائی تربیت راجستھان کے علمی ماحول میں ہوئی، جس کے بعد انہوں نے رام پور کے مشہور مدرسہ عالیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہاں انہیں مولانا عبد الحق خیر آبادی اور مولانا محمد طیب مکی جیسے نابغہ روزگار اساتذہ سے فیض پانے کا موقع ملا اور 1886ء میں انہوں نے درسِ نظامی میں اول پوزیشن حاصل کر کے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ عملی زندگی میں وہ مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں یونانی شفا خانے کی انچارجی، رضا لائبریری کی نظامت اور نواب حامد علی خان کی درباری خدمات شامل ہیں، مگر ان کی اصل پہچان ان کی تصنیفی خدمات بنیں۔
آپ کی علمی بلندی کا اعتراف اپنے عہد کے بڑے بڑے اکابرین نے کیا۔ خواجہ حسن نظامی نے آپ کو ایک ایسا محقق اور بے باک مورخ قرار دیا جس نے راجپوتانہ کی تاریخ لکھ کر اورنگ زیب عالمگیر کی تاریخی حمایت کا حق ادا کیا۔ حکیم صاحب کی تاریخ نگاری کا ایک بڑا کمال ان کی تصنیف ’اخبار الصنادید‘ ہے، جو روہیل کھنڈ اور افغانوں کی تاریخ پر ایک مستند دستاویز ہے۔ اس کتاب کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال نے اسے تاریخ کا عمدہ نمونہ قرار دیتے ہوئے آپ کے سادہ اور موثر طرزِ تحریر کی بے حد تعریف کی۔ تاریخ کے میدان میں ان کی دیگر اہم کتب میں ’تاریخ اودھ‘ (چار جلدیں)، ’وقائع راجستھان‘ اور ’تاریخ ریاست حیدرآباد دکن‘ شامل ہیں، جو آج بھی محققین کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
تاریخ کے ساتھ ساتھ، علمِ عروض اور فنِ شاعری پر آپ کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ آپ کی تصنیف ’بحر الفصاحت‘ کو اردو زبان میں اس موضوع پر ’انسائیکلوپیڈیا‘ کا درجہ حاصل ہے۔ یہ ضخیم کتاب، جو ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، نہ صرف پنجاب یونیورسٹی کے نصاب کا حصہ رہی بلکہ آج بھی فنِ شاعری سیکھنے والوں کے لیے حرفِ آخر تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لسانیات اور قواعد پر ان کی کتاب ’نہج الادب‘ فارسی زبان و بیان کے اسرار و رموز کا خزینہ ہے۔
حکیم صاحب محض ایک ادیب اور مورخ ہی نہ تھے بلکہ طبِ یونانی کے ایک مایہ ناز معالج بھی تھے۔ ان کی طبی تصانیف جیسے ’خزانتہ الادویہ‘، ’خواص الادویہ‘ اور ’قرابا دین نجم الغنی‘ اطباء کے یہاں بے حد مقبول ہیں اور اپنی ضخامت و تحقیق کے اعتبار سے فنِ طب کا سرمایہ ہیں۔ علمی و تحقیقی مصروفیات کے باوجود آپ نے شاعری سے بھی اپنا رشتہ استوار رکھا اور ’دیوانِ نجمی‘ کی صورت میں اپنا کلام یادگار چھوڑا، جس میں کلاسیکی روایت کی جھلک نمایاں ہے۔
وفات: آپ نے 82 سال کی بھرپور علمی زندگی گزاری اور یکم جولائی 1941ء کو رام پور میں وفات پائی۔