آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

فراق گورکھپوری

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

فراق گورکھپوری

MORE BY فراق گورکھپوری

    آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

    اف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں

    بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام

    بہلائیں تجھ سے چھٹ کے طبیعت کہاں کہاں

    فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے

    تیرا اثر ہے اے غم فرقت کہاں کہاں

    ہر جنبش نگاہ میں صد کیف بے خودی

    بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں

    راہ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی

    پھرتے لیے ہوئے یہ مصیبت کہاں کہاں

    دل کے افق تک اب تو ہیں پرچھائیاں تری

    لے جائے اب تو دیکھ یہ وحشت کہاں کہاں

    اے نرگس سیاہ بتا دے ترے نثار

    کس کس کو ہے یہ ہوش یہ غفلت کہاں کہاں

    نیرنگ عشق کی ہے کوئی انتہا کہ یہ

    یہ غم کہاں کہاں یہ مسرت کہاں کہاں

    بیگانگی پر اس کی زمانے سے احتراز

    در پردہ اس ادا کی شکایت کہاں کہاں

    فرق آ گیا تھا دور حیات و ممات میں

    آئی ہے آج یاد وہ صورت کہاں کہاں

    جیسے فنا بقا میں بھی کوئی کمی سی ہو

    مجھ کو پڑی ہے تیری ضرورت کہاں کہاں

    دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری نہ تھی

    تیرے لئے اٹھائی ندامت کہاں کہاں

    اب امتیاز عشق و ہوس بھی نہیں رہا

    ہوتی ہے تیری چشم عنایت کہاں کہاں

    ہر گام پر طریق محبت میں موت تھی

    اس راہ میں کھلے در رحمت کہاں کہاں

    ہوش و جنوں بھی اب تو بس اک بات ہیں فراقؔ

    ہوتی ہے اس نظر کی شرارت کہاں کہاں

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites