آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

آزاد گلاٹی

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

آزاد گلاٹی

MORE BY آزاد گلاٹی

    آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

    لوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے

    صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوا

    رات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے

    اپنے دکھ میں ڈوب کر وسعت ملی کیسی ہمیں

    ہیں زمیں سے آسماں تک ہم ہی ہم پھیلے ہوئے

    آج آئینے میں خود کو دیکھ کر یاد آ گیا

    ایک مدت ہو گئی جس شخص کو دیکھے ہوئے

    جسم کی دیوار گر جائے تو کچھ احساس ہو

    اپنے اندر ہم پڑے ہیں کس قدر سمٹے ہوئے

    کس سے پوچھیں رات بھر اپنے بھٹکنے کا سبب

    سب یہاں ملتے ہیں جیسے نیند میں جاگے ہوئے

    اس نگر کے جگمگاتے راستوں پر گھوم کر

    ہم چلے آئے غموں کی دھول میں لپٹے ہوئے

    جن کو اے آزادؔ بخشی تھی مہک ہم نے کبھی

    اب وہی رستے ہمارے واسطے کانٹے ہوئے

    مآخذ:

    • Book: Dasht-e-Sada (Pg. 27)
    • Author: Azad Gulati
    • مطبع: Friends Book Emporium, Nabh, Punjab (1975)
    • اشاعت: 1976

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites