آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں

سراج لکھنوی

آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں

سراج لکھنوی

MORE BYسراج لکھنوی

    آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں

    ہم کل کی آستینیں اب تک سکھا رہے ہیں

    احساں جتا جتا کر نشتر لگا رہے ہیں

    میری کہانیاں سب مجھ کو سنا رہے ہیں

    آنسو غم و خوشی کے جلوے دکھا رہے ہیں

    کچھ جگمگا رہے ہیں کچھ جھلملا رہے ہیں

    ساقی کے روٹھنے پر رندوں میں برہمی ہے

    ساغر سے آج ساغر ٹکرائے جا رہے ہیں

    اب چاہے شکل فردا جتنی حسین تر ہو

    جو دن گزر گئے ہیں وہ یاد آ رہے ہیں

    ہمت نہ ہار دینا اے حسرت نظارہ

    اک آفتاب سے ہم آنکھیں لڑا رہے ہیں

    وحشی ہیں کس کے کتنا ستھرا مذاق غم ہے

    شبنم سے آنسوؤں کے قطرے ملا رہے ہیں

    آنکھوں پر اپنی رکھ کر ساحل کی آستیں کو

    ہم دل کے ڈوبنے پر آنسو بہا رہے ہیں

    کھلتا سراجؔ کچھ تو یہ راز زندگی کا

    یہ ہر نفس میں کس کے پیغام آ رہے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY