اور کیا مجھ سے کوئی صاحب نظر لے جائے گا

فضا ابن فیضی

اور کیا مجھ سے کوئی صاحب نظر لے جائے گا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    اور کیا مجھ سے کوئی صاحب نظر لے جائے گا

    اپنے چہرے پر مری گرد سفر لے جائے گا

    دسترس آساں نہیں کچھ خرمن معنی تلک

    جو بھی آئے گا وہ لفظوں کے گہر لے جائے گا

    چھاؤں میں نخل جنوں کی آؤ ٹھہرا لیں اسے

    کون جلتی دھوپ کو صحرا سے گھر لے جائے گا

    آسماں کی کھوج میں ہم سے زمیں بھی کھو گئی

    کتنی پستی میں مذاق بال و پر لے جائے گا

    میں ہی تنہا ہوں یہاں اس کی صلابت کا گواہ

    کون اٹھا کر یہ مرا سنگ ہنر لے جائے گا

    کاٹ کر دست دعا کو میرے خوش ہو لے مگر

    تو کہاں آخر یہ شاخ بے ثمر لے جائے گا

    پست رکھو اپنی آوازوں کو ورنہ دور تک

    بات گھر کی رخنۂ دیوار و در لے جائے گا

    میں اٹھاتا ہوں قدم حالات کی رو کے خلاف

    جانتا ہوں وقت کا جھونکا کدھر لے جائے گا

    اتنی لمبی بھی نہیں لوگو یہ گمنامی کی عمر

    ڈھونڈھ کر مجھ کو شعور معتبر لے جائے گا

    کاروبار زندگی تک ہیں یہ ہنگامے فضاؔ

    کیا وہ سایہ چھوڑ دے گا جو شجر لے جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY