بات کا اپنی نہ جب پایا جواب

خواجہ محمد وزیر

بات کا اپنی نہ جب پایا جواب

خواجہ محمد وزیر

MORE BYخواجہ محمد وزیر

    بات کا اپنی نہ جب پایا جواب

    ہم یہ سمجھے وہ دہن ہے لا جواب

    باتیں سنوائیں لب خاموش نے

    ورنہ ہم دیتے اسے کیا کیا جواب

    بے نشاں ہے وہ کمر شکل دہن

    کون سی شے ہے نہیں جس کا جواب

    سادہ کاغذ بھیجا نامہ کے عوض

    واں سے آیا بھی تو صاف آیا جواب

    پوچھتا گر اس کمر کا میں نشاں

    غیب سے ملتا مجھے اس کا جواب

    تم جو کچھ کہتے زبان تیغ سے

    میں دہان زخم سے دیتا جواب

    آج مجھ سے بات اگر کرتے نہیں

    دیں گے یہ بت کل خدا کو کیا جواب

    بے دہن وہ ہے تو میں ہوں بے زباں

    یار کی صورت ہوں میں بھی لا جواب

    کہہ کے اک مصرع مہ نو رہ گیا

    ہو سکا کب بیت ابرو کا جواب

    بات سیدھی کی جو تھا مذکور قد

    ذکر ابرو میں دیا ٹیڑھا جواب

    کیجیے کیا بات اس کج‌ طبع سے

    دے گا چرخ واژگوں الٹا جواب

    باتیں کرتا ہے جو پردہ چھوڑ کر

    مجھ کو دیتا ہے وہ در پردہ جواب

    آ گیا اے وائے پیغام اجل

    پر نہ قاصد لے کے کچھ آیا جواب

    سن کے بیتیں میرے حاسد چپ رہے

    اے وزیرؔ اپنا سخن ہے لا جواب

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY