در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

اعجاز گل

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

    یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر

    روداد گزشتہ تو سنی کوزہ گری کی

    فردا کا بھی کر ذکر جو ہے چاک سے باہر

    خوش آیا عجب عشق کو یہ جامۂ زیبا

    نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر

    چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر

    پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر

    آتا نہیں کچھ یاد کہ اے ساعت نسیاں

    کیا رکھا ترے طاق پہ کیا طاق سے باہر

    سنتا ہوں کہیں دور سے نقارا صبا کا

    اتری ہے بہار اب کے بھی خاشاک سے باہر

    کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

    ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر

    موجود خلا میں ہیں اگر اور زمینیں

    افلاک بھی ہوں گے کہیں افلاک سے باہر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY