ڈھونڈھتا ہوں روز و شب کون سے جہاں میں ہے

اعجاز گل

ڈھونڈھتا ہوں روز و شب کون سے جہاں میں ہے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    ڈھونڈھتا ہوں روز و شب کون سے جہاں میں ہے

    اک مکاں کہ روشن سا بستیٔ گماں میں ہے

    سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا رونا

    تیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہے

    خوش بہت نہ ہو سن کر ساحلوں کا آوازہ

    اک فصیل پانی کی اور درمیاں میں ہے

    لوٹنے نہیں دیتا یہ طلسم رستوں کا

    جانتا ہوں میں ورنہ سکھ بہت مکاں میں ہے

    راز کچھ نہیں کھلتا اس عجب نگر کا یاں

    سود میں نہ تھا دن بھی رات بھی زیاں میں ہے

    دیکھتا نہیں ہے کیا سات آسماں والا

    کون دھوپ کے اندر کون سائباں میں ہے

    مآخذ:

    • کتاب : siip (Magzin) (Pg. 260)
    • Author : Nasiim Durraani
    • مطبع : Fikr-e-Nau ( 39 (Quarterly) )
    • اشاعت :  39 (Quarterly)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY