دشوار ہے اب راستا آسان سے آگے

اعجاز گل

دشوار ہے اب راستا آسان سے آگے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    دشوار ہے اب راستا آسان سے آگے

    رکھ عمر کہن پچھلا قدم دھیان سے آگے

    اٹکا ہوا سورج ہے اسی ایک سبق پر

    بڑھتا نہیں دن رات کی گردان سے آگے

    قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت

    پڑتا ہے بیابان بیابان سے آگے

    پہنچا تو نہیں میں در وصلت پہ مگر ہاں

    سنتا ہوں کہیں ہے شب ہجران سے آگے

    نہ تخت نہ آباد کوئی شہر صبا کا

    اک گریہ ہے دیوار سلیمان سے آگے

    خمیازہ ہے اس عادت اسراف کا اور بس

    جو بے سر و سامانی ہے سامان سے آگے

    کل شور بپا دل میں تھا پہچان کی خاطر

    اب سکتہ ہے آزار کا پہچان سے آگے

    نکلی نہ کسی ایک کی تعبیر موافق

    سو خواب تھے ہر خواب پریشان سے آگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY