ایک عجیب راگ ہے ایک عجیب گفتگو

جمیل الدین عالی

ایک عجیب راگ ہے ایک عجیب گفتگو

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    ایک عجیب راگ ہے ایک عجیب گفتگو

    سات سروں کی آگ ہے آٹھویں سر کی جستجو

    بجھتے ہوئے مرے خیال جن میں ہزارہا سوال

    پھر سے بھڑک کے روح میں پھیل گئے ہیں چار سو

    تیرہ شبی پہ صبر تھا سو وہ کسی کو بھا گیا

    آپ ہی آپ چھا گیا ایک سحاب رنگ و بو

    ہنستی ہوئی گئی ہے صبح پیار سے آ رہی ہے شام

    تیری شبیہ بن گئی وقت کی گرد ہو بہو

    پھر یہ تمام سلسلہ کیا ہے کدھر کو جائے گا

    میری تلاش در بہ در تیرا گریز کو بہ کو

    خون جنوں تو جل گیا شوق کدھر نکل گیا

    سست ہیں دل کی دھڑکنیں تیز ہے نبض آرزو

    تیرا مرا قصور کیا یہ تو ہے جبر ارتقا

    بس وہ جو ربط ہو گیا آپ ہی پا گیا نمو

    میں جو رہا ہوں بے سخن یہ بھی ہے احترام فن

    یعنی مجھے عزیز تھی اپنی غزل کی آبرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY